We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

’’ خار زارِ سیاست کے شب و روز‘‘ ایک نظر میں

5 0 0
14.01.2018

پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی سیاست کا آغاز روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کے ساتھ کیا تھا۔ جب اسے اقتدار ملا تو اس کے لیڈروں اور کارکنوں نے اپنے منشور پر عملدرآمد کے لئے خاصے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا، پنجاب اسمبلی کے ممبر ملک حاکمین کو جیلوں کا محکمہ دیا گیا۔

بعض لوگوں کے نزدیک یہ وزارت اتنی اہم نہ تھی لیکن ملک صاحب جیلوں کے اندرونی حالات سے کامل آگہی رکھتے تھے، چنانچہ انہوں نے بڑی دلیری اور بلند عزم کے ساتھ اصلاحات کا عمل شروع کردیا۔

وہ جب کبھی کسی عوامی جلسے میں مخاطب ہوتے تو اپنے اصلاحاتی پروگرام کا ذکر ضرور کرتے کہ وہ جیلوں کی اصلاحات کا پورے پنجاب میں جال بچھا رہے ہیں۔ انہوں نے تو اتنا ہی کہا، آگے کسی ستم ظریف نے بیان میں تصرف یوں کیا کہ ’’ہم پورے پنجاب میں جیلوں کا جال بچھا دیں گے‘‘۔

بس پھر کیا تھا، منہ سے نکلی کوٹھوں چڑھی والی بات ہوگئی۔ کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں کے قلم رواں ہوگئے اور طنز و مزاح کا ایک مینا بازار سج گیا۔ میرے جیسے عامیوں نے بھی یہی سمجھ لیا کہ ممکن ہے ملک صاحب جوش خطابت میں جیلوں کا جال بچھانے کا جملہ کہہ گئے ہوں، لیکن اب محترم ملک حاکمین کی یادداشتوں پر مبنی کتاب چھپی ہے تو اصل حقیقت واشگاف ہوئی ہے، کتاب کا عنوان ہے: ’’خار زارِ سیاست کے شب و روز‘‘۔ صفحات ساڑھے پانچ سو ہیں اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی مصنف محترم نے خود کیا ہے۔


بھٹو صاحب ذہین و فطین سیاستدان تھے، وہ ایسے بڑے بڑے کام کر گزرے کہ جن کی کسی اور حکمران سے توقع نہیں ہوسکتی تھی، لیکن افسوس اپنے بعض معاصر لیڈروں، ان کی جماعتوں اور کارکنوں کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جس سے ان کی شہرت داغدار ہوگئی، اپوزیشن تو خیر اپوزیشن تھی، وہ تو اپنے........

© Daily Pakistan (Urdu)