We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

زینب ، حکومت اور فنون لطیفہ

2 0 5
14.01.2018

سانحات، صدمات ، آفات اور پرتشدد واقعات سے انسانی تاریخ بھری پڑی ہے ، اللہ تعالیٰ کے پیارے انبیاء کے ساتھ کنوؤں میں پھینکنے ، دریاؤں میں بہائے جانے ،سولی چڑھائے جانے ، آری سے چیرے جانے اور آگ میں پھینکے جانے تک نجانے کیا کچھ ہوا ، ننھے علی اصغر ؒ کی شہادت سے لے کر آج تک بچوں سے سفاکیت کا سلسلہ جاری و ساری ہے ، جو کچھ پیاری زینب کے ساتھ قصور میں ہوا اس پر ہر انسانی روح تڑپ اور سسک رہی ہے ، بلھے شاہ کے شہر قصور میں ظلم و درندگی کی انتہا ہو گئی ، عام انسانوں کے ساتھ ساتھ موجودہ دور کے شعراء بھی عظیم شاعر بلھے شاہ کو مخاطب کر کے اپنے غصے اور غم کا اظہار کر رہے ہیں ، بلھے شاہ جی کے معروف مصرعہ ۔

’’ گور پیا کوئی ہور ‘‘ کو ٹارگٹ کرکے یہاں تک اشعار اور نظمیں کہی گئیں کہ بلھے شاہ جی ! جو کچھ دھی رانی زینب کے ساتھ ہوا ، اس کے بعد آپ مر گئے ، گور میں جا گرے ہیں۔

یقینایہ انتہائی سنگدلانہ ، مجرمانہ ، سفاکانہ اور بہیمانہ فعل تھا جو معصوم زینب کے ساتھ ہوا ، پوری قوم مسلسل سوگ اور غم و غصہ میں ہے ، پوری نسل انسانیت شرما گئی ہے ، سبھی کی گردنیں شرم سے جھکی ہوئی ہیں اور کہنے کے لئے کسی کے پاس کچھ نہیں ،لیکن بات پھر وہی ہے کہ انسانی تاریخ میں ظلم و بربریت ، حیوانیت اور سفاکیت کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہے ، ہم تو خیر سے ’’تھرڈ ورلڈ ‘‘کہلاتے ہیں ، یورپ اور امریکہ میں آج بھی بیمار ذہنیت کے لوگ ایسی مجرمانہ اور درندوں جیسی حرکتیں کرتے ہیں ،اس میں دوش کسی حکومت کا نہیں، دماغی امراض میں مبتلا بعض افراد سنگین وارداتوں میں اکثر مبتلا رہے ہیں ، اصل میں ہمارے ہاں سیاسی و سماجی گھٹن اس حد تک رہی ہے کہ نارمل افراد بھی سنگین جرائم میں مبتلا رہے ،آمرانہ ادوار میں ہر طرح کی’’ ایکٹیوٹیز‘‘ پر جب بے جا قفل لگائے جاتے ہیں تو وہ بے شمار نفسیاتی بیماریوں کے دروازے کھول دیتے ہیں ،سیاسی گھٹن کے ساتھ ساتھ ہر کوئی سماجی گھٹن میں غرق ہو جاتا ہے اور یہی گھٹن دماغی امراض میں مبتلا افراد سے........

© Daily Pakistan (Urdu)