We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

حکومت بری الذمہ نہیں ہوسکتی !

3 0 0
14.01.2018

جس نے زینب سمیت چھ بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا ہے، کیا وہ پکڑا جائے گا تو یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل ہو جائے گا، پھر کوئی اور ایسا واقعہ نہیں ہوگا، اس طرح دیگر درندوں کو کان ہوں گے اور وہ سزاؤں کے خوف سے توبہ تائب ہو جائیں گے؟

جو بھی ایسا سوچ رہا ہے، وہ یا تو بھولا بادشاہ ہے یا پھر اس نے اپنی آنکھوں پر سفاک پٹی باندھ رکھی ہے۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ گھر کی ساری وائرنگ خراب ہو اور آپ چاہیں کہ بس مائیکروویو اون کا سوئچ ٹھیک ہو جائے، تاکہ گرم کھانا ملتا رہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ طوفان کے آگے بند نہ باندھیں اور چاہیں کہ جس سوراخ سے گھر کے اندر پانی آیا ہے، وہ کسی طرح بندہو جائے۔

زینب کے قاتل کو ڈھونڈنے کے لئے سارا زور لگایا جارہا ہے۔ وہ درندہ قصور ہی میں چھپا بیٹھا یہ سب تماشا دیکھ رہا ہے، وہ قابو میں آ بھی جائے گا اور بعدازاں ایک فرضی پولیس مقابلے میں مار بھی دیا جائے گا، مگر کیا اس درندے کے جہنم واصل ہونے سے ملک بھر کی بچیاں محفوظ ہو جائیں گی، پھر کوئی ایسا سفاک درندہ پیدانہیں ہوپائے گا؟

۔۔۔ ہماری پولیس، قانون اور عدالتیں اتنی طاقتور اور متحرک ہو جائیں گی کہ ایسے درندوں کو پیدا کرنے والی جو فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں، انہیں بند کرادیں گی؟۔۔۔ صاحبو! بس کرو خواب دیکھنے کی عادت چھوڑ دو، ہوگا صرف یہ کہ ایک زینب کا قاتل ختم ہو جائے گا، مگر فیکٹریاں بند ہوں گی اور نہ اِن فیکٹریوں کی سرپرستی کرنے والے ختم ہوں گے۔ ایسے دلدوز واقعات ہوتے رہیں گے۔ معاشرہ سراپا احتجاج بنارہے گا، پولیس گو لیاں مار کر لوگوں کو ٹھنڈا کرتی رہے گی اور نوٹس پر نوٹس لینے والے اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے۔

حیرت ہے کہ قصور کا اندوہناک واقعہ ہوا ہے تو سارا زور اس بات پر دیا جارہا ہے کہ بچوں کو شعور دیا جائے، والدین اپنا فرض ادا کریں، جنسی زیادتی کے بارے میں بچوں کو آگاہ کیا جائے، انہیں بتایا جائے کہ کسی اجنبی کے جھانسے میں نہیں آنا وغیرہ وغیرہ۔

اس میں کون سی ایسی بات ہے جو والدین گاہے بہ گاہے........

© Daily Pakistan (Urdu)