We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

زینب کو بچانے کی تیز رفتار حکمت عملی

3 0 0
13.01.2018

یہ بہت تکلیف دہ دن تھا ،معصوم صورت مظلوم زینب کی میت سامنے پڑی تھی اور لاہور سے جانے والے ایک مولوی صاحب پوری بے رحمی کے ساتھ دعا کے نام پر بد دعائیں مانگ رہے تھے ، ان کے جملے آگ لگانے جیسے تھے اور وہ اسی کام کے لئے وہاں آئے تھے ،ہجوم کو دیکھ کر بڑے بڑے اپنا توازن کھو بیٹھتے ہیں، مگر یہی لمحہ ہوتا ہے جب آپ ایک حقیقی راہنما بنتے ہیں یا ایک وقتی اشتعال میں جمع ہونے والوں کے جتھے دار جو اپنے پر غم اور دکھ کے لئے کوئی راستہ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں،ان لوگوں کا بالعموم حادثے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا،مگر وہ بڑھ چڑھ کر اپنے پرخلوص غصے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں ۔

نہ وہ اپنے غصے کی آخری حد کو جانتے ہوتے ہیں اور نہ اس کی شدت دکھانے کے بعد اس کے نقصانات سے آگا ہ ہوتے ہیں، یہ جلوس ایران میں مہنگائی کے خلاف ہو یا قصور میں زینب کی موت پر دعا کی بجائے احتجاج اور سرکاری دفاتر پر حملے کا خوگر، نہ کبھی مہنگائی کم ہوتی ہے اور نہ مرنے والی کو زندگی واپس ملتی ہے البتہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ کچھ معصوم اور جذباتی لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ،راہنمائی آگ لگانے میں نہیں بجھانے اور کسی حل کی طرف لے جانے کانام ہے ،یہ کیسی راہنمائی اور ناراضی ہے کہ ٹی وی کی سکرین پر خبر دیکھی ،لوگوں کا ہجوم دیکھا ان کا غم و غصہ محسوس کیا اور وہاں جا پہنچے ،کم سے کم پانچ سیاسی راہنماوں کے بیان میرے سامنے ہیں مجال ہے کسی نے ایک لفظ بھی جرم اور مجرم کے بارے میں کہا ہو اس کے مستقل حل کی طرف راہنمائی کی بات کی ہو ، ’ صرف سرخیاں ملاحظہ ہوں’’یہ حکومت کی ناکامی ہے ،یہ شریفوں کے منہ پر طمانچہ ہے ،قاتل اعلیٰ سے شہداے قصور کا بھی انتقام لیں گے ،شریفوں نے پنجاب پولیس کو خراب کر دیا ہے ،‘‘جس شیطان نے یہ کام کیا وہ یہ سب کہیں کسی کونے میں چھپا یہ دیکھ اور پڑھ کر مسرور ہو رہا ہوگا کہ کسی کو بھی اس کے گناہ پرغصہ نہیں ہے،سبھی کو ہی اپنی ادنیٰ سیاسی سوچ کو جھنڈا بنا کر لہرانے سے ہی فرصت نہیں،یہ جو اب خبر بنوانے بھاگے چلے آتے ہیں ان کو یہ خبر کیوں نہیں ہوئی کہ اسی قصور شہر کی بارہ بچیاں کچھ ہی عرصے میں عزت اور جان سے گئیں ایک ہی شہر میں اور ایک ہی طرح کے واقعات سے ،تب آپ کہاں سوئے تھے ،چونکہ لوگ احتجاج کے موڈ میں نہیں تھے ،چونکہ مسئلہ کو آگ نہیں لگی تھی ،چونکہ لاش دستیاب نہیں تھی اور براہ راست کوریج نہیں تھی اس لئے آپ بھی نہیں آئے اور آپ کے اندر برپا عوامی ہمدردی کا طوفان بھی کہیں سویا رہا ،یہ کیسی راہنمائی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر کسی حادثے اور سانحے کی منتظر رہتی ہے........

© Daily Pakistan (Urdu)