We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

قصور واقعہ:ہمارے سماجی اور سیاسی نظا م پر ایک سوالیہ نشان

3 0 6
13.01.2018

7سالہ بچی زینب کے ساتھ زیادتی اور ہلاکت کے بعد قصور سمیت پورا پاکستان ابھی تک صدمے کی کیفیت میں ہے۔ قصور کے شہریوں نے بابا بلھے شاہ کی دھرتی کی لاج رکھتے ہوئے اس واقعے کے بعد جس طرح سے بھرپور احتجاج کیا، اس سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ معاشرہ ابھی مکمل طور پر بے حس نہیں ہوا۔

اطلاعات کے مطابق قصور شہر کے تھانہ صدر کے ہی علاقے میں یہ اس نوعیت کا آٹھواں واقعہ ہے، جبکہ اس تھانے کی حدود سے باہر قصور شہر کے دوسرے علاقوں میں اس نوعیت کے 12 واقعات چند ماہ کے اندر ہی ہوچکے ہیں۔

ننھی زینب کے ساتھ اس واقعہ نے جہاں ایک طرف عوام تو دوسری طرف فوج اور عدلیہ جیسے ریاستی اداروں کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ اس واقعہ پر اپنے اپنے طور پر ایکشن لیں۔ ننھی زینب کی ہلاکت نے ہمارے سیاسی اور سماجی رویوں پر بھی بہت سے سوالات کھڑے کر دےئے ہیں۔

ہمارے ملک میں اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات ہوچکے ہیں۔’’ساحل‘‘ نامی ایک این جی او کے مطابق پاکستان میں ہر روز 11 بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔

اسی این جی او کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں 2017ء کے ابتدائی 6ماہ کے دوران بچوں کے ساتھ زیادتی کے 1,764واقعات ہوئے، جبکہ 2016ء میں 4,139 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ریکارڈ کئے گئے۔

تناسب کے اعتبار سے ہر روز11 واقعات سامنے آئے۔ اس رپورٹ کے مطابق جنوری 2017ء سے جون2017ء تک ہونے والے واقعات میں سے 62 فیصد کا تعلق پنجاب سے، 27 فیصد کا تعلق سندھ سے، جبکہ بلوچستان سے 76، خیبر پختونخوا سے 58 اور آزاد کشمیر سے اس طرح کے42 واقعات سامنے آئے۔ پورے پاکستان سے اس نوعیت کے 74 فیصد مقدمات دیہی علاقوں، جبکہ باقی 26 فیصد شہری علاقوں سے سامنے آئے۔ اسی رپورٹ کے مطابق 2017ء میں زمینداروں اور جاگیرداروں کے........

© Daily Pakistan (Urdu)