We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

سندھ میں گورنر راج کے نفاذ کی باز گشت

3 0 0
09.11.2018

صوبہ سندھ کے بارے میں ایک عجیب بحث شروع ہو گئی ہے کہ صوبہ میں گورنر راج لگ سکتا ہے۔ بظاہر اس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ ایسا کیوں کر ہوسکتا ہے جب صوبہ میں پاکستان پیپلز پارٹی بھاری اکثر یت رکھتی ہے اور اسے حکومت چلانے میں کسی قسم کی کوئی دقت نہیں ہے۔ پارٹی کی صفوں میں بھی اتحاد ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ حکومت چلا رہے ہیں۔ گورنر راج کی بات کرنا غیر جمہوری سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ گورنرراج کی بحث اس وقت شروع ہوئی جب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ایک غیر پارلیمانی انداز کا بیان دیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ سندھ میں غنڈہ راج ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے، وفاق تھوڑاسابھی تعاون کم کردے تو صوبائی حکومت مشکل میں آجائے گی، لیکن دوسری سانس میں کہا کہ یہاں گورنر راج کی ضرورت نہیں،عوام ہمارے ساتھ ہیں،اگلے الیکشن میں سندھ میں پی ٹی آئی کی دو تہائی اکثریت ہوگی ۔ انہیں اس قسم کا بیان دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔

ایسے بیان کا جواب آنا ضروری تھا سو آیا۔ سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب ،ترجمان پی پی مولابخش چانڈیواور صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا ہے کہ وزیر اطلاعات فواد چودھری کان کھول کر سن لیں، صوبے خودمختار ہیں،وزیراعظم عمران خان فواد چودھری کے بیان کی وضاحت کریں، فواد چودھری سندھ حکومت کے دن نہ گنیں بلکہ وفاق میں اپنی کارکردگی کی فکر کریں، تحریک انصاف سندھ حکومت کے خاتمے کے خواب دیکھنا بند کرے،وفاق تین دن تک یرغمال رہا اس وقت فواد چودھری کہاں تھے۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر کی جانب سے سندھ حکومت کے خاتمے کی جانب اشارہ افسوس ناک ہے۔،فواد چودھری........

© Daily Pakistan (Urdu)