We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

پاکستانی نوجوان سسٹم سے ’’ نالاں ‘‘ کیوں ؟

5 0 0
09.11.2018

پاکستان میں بسنے والے مستقبل سے مایوس نوجوان جب تعلیمی ڈگریاں حاصل کر لیتے ہیں تو انہیں ’’ نوکری ‘‘ کی ضرورت پڑتی ہے، کیونکہ نوکری کرکے ایک تو ماں باپ اور بہن بھائیوں کا سہارا بنا جاتا ہے اور دوسرا اپنی پہچان بنانے اور شادی کے لئے تگ و دو کرنا بھی فرض بن جاتا ہے ۔پاکستانی نوجوانوں کی کچھ تعداد تو اپنے بل بوتے اور سفارش وغیرہ سے اپنے معیار کے مطابق ’’ جاب ‘‘ حاصل کر لیتی ہے،

جبکہ کچھ نوجوان سفارش ، پیسہ اور واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے ’’ جاب ‘‘ جیسی سوغات سے محروم رہ جاتے ہیں ، محروم رہ جانے والا یہ طبقہ یا تو حکومت وقت کو کوستا ہے اور یا پھر اپنے ذہنوں میں اُن افراد کے خلاف نفرت پیدا کر لیتا ہے، جس کے متعلق وہ سمجھ لے کہ اُس نے ان کا حق مارا ہے۔

اِسی وجہ سے جرائم کی دُنیا میں پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی شامل ہو جاتے ہیں،جو اپنی جگہ ایک لمحہ فکریہ ہے ۔یہاں یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کی تعداد کا بہت بڑاحصہ جب اپنے وطن عزیز کے سسٹم سے نہیں لڑ سکتا اور وہ اپنی عملی میدان میں دکھائی جانے والی صلاحیتوں کو پس پشت ہوتا دیکھتا ہے تو اُس کے دِ ل میں مُلک چھوڑ کر مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے دیارِ غیر جانا بہتر محسوس ہوتا ہے لہٰذا وہ اپنی اس خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے یا ایجنٹ مافیا کے ہاتھ چڑھ جاتا ہے یا اپنے والدین کی زمین جائیداد بیچ کر خود ہی رختِ سفر باندھ لیتا ہے، جس میں کامیابی اور ناکامی کا تناسب ففٹی ففٹی ہوتا ہے۔

کچھ نوجوان ایجنٹ مافیا کے ہاتھوں یورپی ممالک کی ’’ ڈنکیاں ‘‘ لگاتے ہوئے اور ناجائز راستوں سے بغیر ویزوں کے سیکیورٹی اہلکاروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں........

© Daily Pakistan (Urdu)