We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ضمنی انتخابات اور دوماہ کی حکومتی کارکردگی

5 0 10
16.10.2018

سال 2018ء کے عام انتخابات ہنگامہ خیز اور معنی خیز تھے، جس پر تمام سیاسی جماعتوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔ بالخصوص مسلم لیگ نواز کو ان انتخابات پر تحفظات ہیں اور انہوں نے گو مگو کی صورتحال میں انتخابات میں حصہ لیا، جب انتخابات کے نتائج آنا شروع ہوئے تو بظاہر پاکستان تحریک انصاف پورے ملک میں جیتتی ہوئی نظر آرہی تھی یہاں تک کہ ابتدائی نتائج میں بلاول بھٹو زرداری، خواجہ آصف، رانا ثناء اللہ سمیت کئی بڑے ناموں کو ہارتے ہوئے دکھایا گیا، پھر اچانک نتائج آنے کا سلسلہ منقطع ہوگیا اورآر ٹی ایس میں خرابی ہوگئی اور دوسرے دن جب نتائج سامنے آنے لگے تو کئی ہارے ہوئے جیت گئے اور بہت سے جیتے ہوئے ہار گئے،

پھر تمام جماعتوں کی طرف سے اپنے پولنگ ایجنٹس کو گنتی کے وقت باہر نکالے جانے اور فارم 45 نہ دینے کی شکایات سامنے آنا شروع ہوگئیں۔ الغرض ان انتخابات کو کئی لحاظ سے متنازعہ بنایا گیا، مگر دوسری جانب بین الاقوامی مبصرین نے ان انتخابات کو درست اور پچھلے تمام انتخابات سے زیادہ منصفانہ قرار دے دیا۔

وفاق اور دو صوبوں میں پاکستان تحریک انصاف کی مخلوط حکومتیں قائم ہوئیں اور ایک صوبے یعنی بلوچستان میں پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت بنی، جبکہ صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومت بنا لی۔ شروع میں اپوزیشن جماعتوں میں بہت زیادہ اتحاد دکھائی دیا اور پاکستان کی تاریخ کی سب سے مضبوط حزب اختلاف بنتی نظر آئی، لیکن جوں ہی اسپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کا مرحلہ پہنچا تو یہ اتحاد تتر بتر ہوا اور اپنے اپنے مفادات اور اپنی........

© Daily Pakistan (Urdu)