We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

خاندانی سیاست کے خاندانی سیاسی غْلام۔۔

4 0 68
02.10.2018

بہت عرصہ پہلے اندرْون سِندھ اور جنْوبی پنجاب کے بارے میں مْجھ پہ ایک تلخ اِنکشاف ہوا کہ بھٹہ خشت ( اینٹ ) کے مزدوْر اور وڈیروں کی زرعی زِمینوں کے ہاری باقاعدہ بِکتے ہیں اور یہ سِلسلہ نسل در نسل جاری ہے۔ اور یہ کہ زمین یا بھٹے کا مالک اپنی یہ مَلکیت جب کسی کو فروخت کرتا ہے تو ساتھ اس پہ کام کرنے والے مزدوروں اور ہاریوں کی قیمت بھی طے کر دی جاتی ھے جس بارے میں بِکنے والے نسل در نسل مظلوم غلام لا علم ہوتے ہیں۔اْن کا کام صرف گدھوں کی طرح کام کرنا ہوتاہے۔ اپنے مستقبل ، حقْوق اور قِسمت کے بارے میں سوچنے کی ذِمہ داری سے وہ بری الذمّہ ہوتے ہیں۔ ان کی اپنی کوئی سوچ ہوتی ہے نہ اپنی مرضی سے جینا۔ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی اپنے مالک کے لیے طلوع آفتاب سے غروب تک کام کرتے ہیں۔

یہ تلَخ اِنکشاف زِندگی بھر میرے لیے کرب کا باعث رہا اور رہے گا۔۔ مگر اب کے میرا یہ کرب دوگنا ہو چلا ہے جب سے نسل در نسل غْلاموں کی اِسی طرح کی ایک اور قبیل سے واسطہ پڑا ہے۔ یعنی نسل در نسل خاندانی سیا ست کے نسل در نسل سیاسی غْلام۔جو بھٹہ خشت کے مزدوروں اور وڈیروں کے ہاریوں کی طرح باپ دادا سے خاندانی سیاست کی چوکھٹ پہ غلامی کا طوق گلے میں ڈالے ظْلم کی چکّی میں پِستے چلے آرہے ہیں۔بلکہ میں یہ کہوں گا کہ غلام ابن غلام ابن غلام قسم کی نسل........

© Daily Pakistan (Urdu)