We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

پتھر کے زمانے کے درندے

10 53 15
14.01.2018

زینب کا قاتل گرفتار ہو جائے گا اور اسے سزا بھی ہو جائے گی۔ مسئلہ مگر ختم نہیں ہوگا ۔کیوں؟
انسان بنیادی طور پر درندہ ہے، اس نے فقط تہذیب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ پتھر کے دور میں انسان جانوروں کے ساتھ رہتا تھا، انہی کی طرح شکار کرکے کھاتا تھا، انہی کے ساتھ اٹھتا، بیٹھتا اور سوتا تھا، عورت کا استعمال بھی اسی طر ح کرتا تھا جس طرح جانور اپنی مادہ کا کرتے ہیں، کسی رشتے کا پاس نہ کسی عمر کا لحاظ۔ پھر دھیر ے دھیرے اس نے عقل و شعور کی منازل طے کیں، مختلف علوم سے آگاہی حاصل کی، خود کو جانوروں سے ممتاز جانا، تہذیب سیکھی، جنگل سے باہر آکر انسانوں کی دنیا بسائی، معاشرہ تشکیل دیا، خاندانی نظام وجود میں آیا، رہنے سہنے کے لئے قوانین بنائے گئے اور یوں کئی ہزار برس بعد موجودہ سماج کی ایک شکل بنی جس میں آج ہم بطور انسان بجا طور پر خود کو باقی تمام مخلوق سے برتر اور افضل سمجھتے ہیں۔ انسان کی جبلت مگر وہی ہے اور اس میں وہ تمام خصلتیں پائی جاتی ہیں جو آج سے ایک لاکھ برس پہلے کے انسان میں پائی جاتی تھیں اسی لئے جہاں بھی اسے موقع ملتا ہے، تنہائی میں یا کسی ایسی جگہ جہاں اسے اپنی شناخت کے ظاہر ہونے کا ڈر نہ ہو، وہاں انسان کے اندر کا درندہ باہر آ جاتا ہے اور پھر وہی کچھ کرتا ہے جو پتھر کے دور کا انسان کرتا تھا۔ ایک پرانی کہاوت ہے کہ کسی انسان کا اگر اصل چہرہ دیکھنا ہو تو اسے اوڑھنے کے لئے ایک نقاب دے دو، باطن آشکار ہو جائے گا۔ اب اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تمام انسان موقع ملنے پر انہی گھناؤنی حرکتوں کا ارتکاب کرتے ہیں کیونکہ لاکھوں برس گزرنے کے بعد اب انسان نے اپنے لئے کچھ قوانین اور اخلاقی حدود ایسی متعین کر لی ہیں جن کے بارے میں پوری دنیا میں اتفاق پایا جاتا ہے اور جنہیں ایک طرح سے آفاقی سمجھا جاتا ہے۔ انسانوں کی اکثریت ہزاروں لاکھوں برس گزرنے کے بعد اب مہذب ہو چکی ہے، اب عورت کو محض جنس نہیں........

© Daily Jang