We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ثنا خوان تقدیس مشرق کو مسترد کرنے کا وقت

5 1 11
13.01.2018

قصور میں ایک سات سالہ بچی کے ساتھ خوف ناک سانحے کے بعد پورے ملک میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ردعمل کی نفسیات اپنے زوروں پر ہے۔ چوہدری شجاعت حسین فرماتے ہیں کہ مجرم کو ضیاالحق کے زمانے کی طرح سرعام پھانسی دی جائے۔ عائشہ گلالئی صاحبہ عمران خان کے ’بے حیائی کلچر‘کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہیں۔ بلاول بھٹو قصور واقعہ کو پنجاب حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہیں۔ گویا سندھ حکومت نے ہندو بچیوں کا زبردستی مذہب تبدیل کرنے کی مہم پر قابو پانے میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ طاہر القادری صاحب بھی جنازہ پڑھانے قصور جا پہنچے۔ نیتوں کا حال اللہ بہتر جانتا ہے۔ 2017ء کے پہلے چھ ماہ میں صرف صوبہ پنجاب میں کم سن بچوں سے جنسی زیادتی اور قتل کے ساڑھے سات سو واقعات رپورٹ ہوئے، ضلع قصور اڑسٹھ واقعات کے ساتھ سرفہرست رہا۔ اس دوران کم عمر بچوں کی عریاں فلمیں بنانے کاا سکینڈل بھی قصور ہی میں سامنے آیا۔ اب پولیس اہلکاروں پر تفتیش کے فوری نتائج کے لئے دباؤ آئے گا۔ کچھ بعید نہیں کہ کوئی لاوارث شہری نام نہاد پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا جائے۔ سنجیدہ سوالات سے جان چھڑانے کا یہ رویہ ہماری نفسیات میں پیوست ہے۔ کوئی مجرمانہ واقعہ عوامی توجہ حاصل کر لے تو ماورائے عدالت قتل کی مدد سے اس پہ مٹی ڈال دی جاتی ہے۔ دہشت گردی کا واقعہ پیش آ جائے تو موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی کا حکم جاری کر دیا جاتا ہے۔ تعلیمی ادارے پر حملہ ہو جائے تو پورا ملک درس گاہوں کی چاردیواری تعمیر کرنے پر لگ جاتا ہے۔ سیاسی قیادت توقعات پہ پوری نہ اترے تو مارشل لا کا مطالبہ کر دیا جاتا ہے، فوجی آمریت سے جان چھڑانا ہو تو عدلیہ بحالی کی تحریک شروع کر دی جاتی ہے۔ عطا شاد مرحوم کہتے تھے… سیلاب کو نہ روکیے، رستہ بنائیے۔ راستہ تو ہم بھی بناتے ہیں مگر طریقہ کار میں........

© Daily Jang