We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

معجزہ ہی ہو گا

3 1 4
13.01.2018

بلوچستان میں جس طرح کی کھچڑی پکا دی گئی ہے معجزہ ہی ہو گا کہ صوبائی اسمبلی تحلیل ہونے سے بچ سکے کیونکہ جو بھی بحران پیدا کیا گیا ہے اس کا مقصد ہی اس ایوان کو ختم کر کے مارچ میں ہونے والے سینٹ کے الیکشن کو سبوتاژ کرنا ہے ۔نامعلوم افراد نے پھر اپنا کام دکھایا اور کچھ اسمبلی ممبران خصوصاً وہ جن کا تعلق نون لیگ سے تھا پر دبائو ڈالا کہ وہ یہ طوفان کھڑا کر دیں ۔ یہ صرف ہم ہی نہیں کہہ رہے بلکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی انکشاف کیا ہے کہ کچھ ایم پی ایز نے انہیں اپنے دورہ کوئٹہ کے دوران بتایا کہ ان پر دبائو ڈالاگیا ہے ۔ جب سے انہوں نے 5ماہ قبل وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا ہے 3بار کوئٹہ کا دورہ کیا ہے اور کسی موقع پر بھی انہیں نون لیگ کے ممبران کی طرف سے وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف کوئی شکایت وصول نہیں ہوئی تھی ۔ نون لیگ کی اعلیٰ قیادت کے لئے یہ سرپرائز تھا کہ اچانک اس کے ایم پی ایز نے تحریک عدم اعتماد کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور ایک ’’باغی‘‘گروپ سامنے آگیا ۔ ان میں سے کسی بھی ممبر نے یہ زحمت گوارہ نہیں کی کہ وہ پارٹی کی سینٹرل قیادت کو اعتماد میں لے یا اس پر زور دے کہ وزیراعلیٰ ان کی ’’شکایات‘‘ دور کریں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ اچانک یہ تمام ایم پی ایز خود بخود ہی ’’انقلابی ‘‘ بن گئے ۔ جب مبینہ طور پر نون لیگ کے 21میں سے 15ارکان نے جماعت کی پالیسی کے خلاف فیصلہ کیا تو یہ ممکن ہی نہ رہا کہ پارٹی کی سینٹرل قیادت ثناء اللہ زہری سے یہ کہتی کہ وہ اپنے عہدے سے چمٹے رہیں لہذا اس نے اسی میں ہی عافیت جانی کہ وہ انہیں مشورہ دے کہ وہ مستعفی ہو جائیں ۔ باغی گروپ پر دبائو کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے باوجود وزیراعظم کی دعوت کے ان سے ملنے سے صاف انکار کر دیا ۔وزیراعظم اور نون........

© Daily Jang