We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

بحث کا فقدان

6 2 16
13.01.2018

ہونی ہوکے رہی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے وہی راہ اختیار کی ہے جس کی واشنگٹن میں ہر کوئی اور ہمارے ہاں چند ایک نشاندہی کررہے تھے ۔ چنانچہ پاکستان اور امریکہ کے سیکورٹی تعلقات میں یک لخت گراوٹ میں حیرانی کا کوئی عنصرشامل نہیں۔ صدر ٹرمپ کی ناپسندیدہ ٹویٹ اور فوجی اور دفاعی امداد کی معطلی اعتماد کے طویل بحران کا نقطہ ٔ عروج ،اور دوطرفہ سفارت کاری کی ناکامی ہے ۔ یہ ناکامی شاید انڈیا اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا نتیجہ ہے ۔ہوسکتا ہے کہ یہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو عالمی دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی وسیع تر سازش کا ایک حصہ ہو۔ا ور اسے یہاں سے اس مقام تک لے جانا مقصود ہو جہاں پاکستان کو ایٹمی ہتھیاروں سے محروم کرنے کا کیس بنایا جائے۔ شاید پاکستان چین کے کیمپ میں آنے کی قیمت چکا رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسے واشنگٹن کے غصے کا سامنا ہے جس پر نئی دہلی تیل چھڑک رہا ہے ، جاپان حمایت کررہا ہے اوربرطانیہ خاموشی ، لیکن نہایت موثر طریقے سے اسے کندھا دے رہا ہے ۔
لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ اسے کس انداز سے دیکھتے ہیں۔۔ ۔ ایک سازش، ناکام سفارت کاری ،ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف منصوبہ ، ایشیائی بحرالکاہل کے خطے میں وسیع تر ہنگامہ خیز سیاسی جغرافیائی حرکیات کا ردعمل ۔ ۔۔ لیکن حرف ِ آخر یہ ہے کہ ایسا ہوچکا ۔پاکستان کو ایک سپرپاور،امریکہ، ایک علاقائی طاقت، انڈیا اور انتہائی اہم ہمسائے ، افغانستان کی طرف سے غیر معمولی طور پر پریشان کن صورت ِحال کا سامنا ہے ۔ ان سب کے ترکش ہماری جانب اٹھے ہوئے ہیں۔
ان حالات میں ایک سنجیدہ، فکر انگیز اور غیر جذباتی بحث کا آغاز ہونا چاہیے تھا۔ خوش فہمی کی کوئی گنجائش نہیں بچی۔ کوئی ملک بھی اس طرح گھیرے میں آنا پسند نہیں کرتا۔ یہ کوئی مذاق نہیں۔ سنگین معاملات ہمارے دامن گیر ہیں۔ لیکن ذرا دیکھیں ، ہم اس چیلنج کے ہوتے ہوئے کس طرح کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔ عوامی اور سیاسی بیانیہ بیک وقت مزاحیہ اورسطحی، اور افسوس ناک اور الجھائو دار ہے ۔سچ پوچھیں تو اس سے زیادہ کھوکھلا پن شاید ہی کہیں دکھائی دے۔ ہم نے ابھی تک بنیادی نکتے کی طرف نظر اٹھاکر بھی نہیں دیکھا کہ واشنگٹن سے تعلقات ختم ہونے کے بعد ہم یہاں سے کہاں جائیں گے؟
اس میں بہت سے ’’اگر، مگر‘‘ ہوسکتے ہیں۔ اگر واشنگٹن پاکستان کے اندر تیزرفتاری سے کوئی کارروائی کرگزرا تو کیا ہوگا؟ سرحدی علاقوں کے رپورٹرز ڈرون پروازوں میں بے حد اضافے کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ ان کا ارتکاز زیریں اور........

© Daily Jang