We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

وکیل ،منصف اور زینب کے نام

1 0 1
13.01.2018

وطن عزیز میں انصاف کا حصول کتنا مہنگا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ میاں نوازشریف بھی پکار اٹھے ہیں کہ وہ وکیلوں کی فیسیں ادا کرکے تھک گئے ہیں۔میاں صاحب سے پہلے فیض صاحب نے نظام عدل وانصاف کے گر دیوں حاشیہ کھینچاتھاکہ
بنے ہیں اہل ِہوس مدعی بھی، منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں
زیر نظر فیض صاحب کا ایک ہی شعر قومی سیاست، جمہوریت اور ریاست کی 70سالہ کارکردگی کی سمری ہے۔ اس ضمن میں’’حمودالرحمان کمیشن رپورٹ ‘‘ بھی شایدایسا نقشہ کھینچنے پر قادر نہ ہو جیسا فیض صاحب نے صرف دومصرعوں میں باندھ دیا ہے ۔قومی سیاست کا المیہ یہ بھی ہے کہ حکمرانوں پر مالی کرپشن کا الزام ہے اور وہ نااہل ہونے کے بعدپورے نظام عدل کو چیلنج کرنے کا نعرہ بلند کئے ہوئے ہیں ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس نظام کو وہ چیلنج کررہے ہیں گزشتہ 36سال سے وہی اس کے PROTAGONIST(فلم کے مرکزی ہیرو)بھی ہیں ۔سینئر صحافی نذیر ناجی بتاتے ہیں کہ سیاست اور صحافت میں کرپشن کارجحان تو آغاز ہی سے تھا لیکن آمروں کے دور میں اس میں خوب کھادوغیرہ ڈالی گئی جس سے کرپشن کی فصلیں لہلہاتی رہیں۔بھٹو دور میں اگرچہ میں بہت چھوٹا تھا لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس دور سے وابستہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی سواری سائیکل ہوا کرتی تھی۔ بعد ازاںجنرل ضیاالحق کے سرسایہ سرانجام پانے والے 1985کے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجےمیں جو سیاسی کھیپ تیار کی گئی تھی اسے کرپشن ’’لازمی مضمون‘‘ کے طورپر پڑھایاگیا۔ یاد دہانی کے لئے عرض ہے کہ پیپلز پارٹی نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیاتھا۔ میاں نوازشریف ،چوہدری برادران،شیخ رشیدسمیت سیاسی افق پرچھائے ہوئے 90فیصد کردار انہی غیر جماعتی انتخابات کا تحفہ ہیں۔ اقامہ ،پانامہ ، بھتہ خوری،سیاسی جماعتوں کی پرچیاں، قتل........

© Daily Jang