We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

لاہور پھر کہیں قتل گاہ نہ بن جائے

9 0 1
14.01.2018

بڑے دنوں کے بعدآج ڈاکٹر طاہرالقادری سے ملاقات ہوئی۔ اسی طرح پرجوش دکھائی دیئے ، عمل لہو کی طرح ان کی رگوںمیں دوڑتا ہوا محسوس ہوا۔ علم، فسوں کی طرح ان کی گفتگو میں پھیلتا ہوا نظر آیا۔ انہوں نے مجھے سینے سے لگایا اور سچ لکھنے والے قلم کو دعا دی کہ تیرا خاتمہ نہ ہو وہاں برطانیہ سے آئی ہوئی ایک اور مذہبی شخصیت بھی موجود تھی۔ مغرب میں بہتے ہوئے دریا ایسی شخصیت۔ وہ شخصیت پاکستان میں صرف اس لئے آئی ہوئی ہے کہ اہل سنت کے بڑے بڑے گروپوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔ وہ شخصیت وہاں آنے سے پہلے خادم حسین رضوی سے مل چکی تھی اور پیر حمید الدین سیالوی سے ملنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ جب میں وہاں پہنچا تو وہ ڈاکٹر طاہر القادری سے کہہ رہے تھے کہ زیب سجادہ حضرت سلطان باہو بھی چاہتے ہیں کہ وہ آپ کے ساتھ ہوں انہوں نے دربار سلطان باہو تشریف آوری کی دعوت بھیجی ہے، میری معلومات کے مطابق اس جیسی کئی اورشخصیات بھی اس خواہش کے تحت پاکستان میں سرگرم عمل ہیں، جن میں پیر سید لخت حسنین شاہ اور علامہ سید ظفر اللہ شاہ کانام بھی سنا جارہا ہے۔
سوچتا ہوں کہ پیر سیال کی سرپرستی میں اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی قیادت میں ا گر سواد اعظم اہلسنت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر احتجاج کرتی ہے تو صورت حال بہت خوفناک ہوسکتی ہے۔ تحریک انصاف کے علیم خان بھی سترہ جنوری کے احتجاج میں تحریک انصاف کی بھرپور شمولیت کے مسلسل تیاریوں میں مصروف ہیں۔ خرم نواز گنڈا پور........

© Daily Jang