We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

سانحۂ قصور فیصلہ کن موڑ بن سکتا ہے؟

4 2 17
14.01.2018

کانپتی مائیں سہمی ہوئی بیٹیوں کو سینے سے چمٹائے گھروں کے آخری کونے میں دبکی بیٹھی ہیں۔ وہ باپ جو بیٹی پیدا ہونے پر بیویوں پر تشدد کرتے تھے۔ پھر دندنانے لگے ہیں۔
کیا ہماری ریاضتیں قبول نہیں ہوسکیں۔ کیا ہماری عبادتیں سچی نہیں تھیں۔ مولانا طارق جمیل۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک۔ فرحت ہاشمی کے وعظ دِلوں میں نہیں اُترے۔ تبلیغی اجتماعات۔ مسجدوں کے خطبے۔ مدارس کی تعلیم۔ اسکولوں یونیورسٹیوں کی تدریس سب بے اثر ہے۔ کہہ تو دیا جاتا ہے کہ ہم قرآن و سنّت سے دُور ہوگئے ہیں۔ اس لئے یہ عذاب نازل ہورہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مسجدوں میں پہلے سے زیادہ نمازی آرہے ہیں۔ محلّے میں ایک سے زیادہ مسجدیں بن گئی ہیں۔ حجاب پہلے سے زیادہ ہوچکا ہے۔ پہلے پی ٹی وی پر صرف پانچ منٹ کا مذہبی پروگرام ’’بصیرت‘‘ ہوتا تھا۔ اب پورے پورے چینل مذہبی ہوگئے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ دِکھاوا ہے۔ سب کچھ کاروبار ہے۔جو معاشرہ اس عظیم دین اسلام کی تعلیمات کی عملی تصویر پیش نہیں کررہا ہے۔ ہم صراطِ مستقیم سے بھٹکے رہتے ہیں۔
جیسے مزدور بیلچہ۔ کدال لئے سڑک کنارے کسی سیٹھ کے منتظر ہوتے ہیں۔ ہم سب کسی سانحے کے انتظار میں رہتے ہیں۔ ایسا سیاہ واقعہ ہوتے ہی ہم دو زانو ہوکر موبائل۔ لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ٹویٹر کے تیر چلتے ہیں۔ فیس بُک پر نیزے بازی ہوتی ہے۔ واٹس ایپ پر توپیں گولے اُگلتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں حکمرانوں پر بیانات کے گرز مارتی ہیں۔ علماء فتوئوں کے میزائل داغتے ہیں۔ تجزیہ کار ٹاک شوز میں دُور دُور کی کوڑیاں لاتے ہیں۔
ہم روسو بن کر ریاست کو اپنے فرائض یاد دلاتے ہیں۔ ابن خلدون کا........

© Daily Jang