We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ایک زینب اور کس کس کو روئیں؟

5 37 44
14.01.2018

کس کا ماتم کریں، کس کس کو روئیں؟ اِک بنت ہوا (زینب) کے بہیمانہ قتل نے جیسے سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑ دیا اور لوگ فرطِ جذبات میں آپے سے باہر ہو گئے۔ یہ ایک نوخیز روح کی کچرے سے ملی لاش کا نوحہ تھا، یا پھر اجتماعی احساسِ گناہ اور سماجی ضمیر کی خلش جس نے قصور کے شہریوں کو سوتے سے جگا دیا۔ ایسے پہلے بھی ہوتا رہا تھا، بار بار ہوتا رہا ہے اور تقریباً ہر گلی کوچے، ہر دوسرے تیسرے گھراور اسکول/مدرسے میں معصوم بچے جنسی درندگی کا لقمہ بنتے رہے ہیں۔ شرم و حیا، عزت و آبرو، جھوٹی شان، خوف اور احساسِ ندامت آڑے آتے رہے اور آڑے ہیں کہ ہوس کا شکار بچے بچیاں بول پاتے۔ گونگے، بہرے اور اندھے معاشرے میں بولی بھی تو ایک معصوم اور مسخ شدہ لاش۔ اس پر مزید المیہ یہ کہ ہر طرح کے سیاسی و مذہبی ڈھونگیوں کو اپنی اپنی بے رنگ دُکانوں کو چمکانے کا ایک موقع اور میسر آ گیا۔ ایسے میں ثناخوانِ وحشت و دہشت کہاں چُپ سادھنے والے تھے اور جنسی بربریت پہ جبریت و فسطائیت کے گھسے پٹے نسخے لیے عقل و دانش کو پسپا کرنے میدان میں کود پڑے۔ بچوں کے ساتھ بدفعلی، بدسلوکی، تشدد اور جبری مشقت عام ہے۔ ہم سب یہ جانتے ہیں اور جانتے بوجھتے بھی اپنی نئی نسلوں کو ایک انسانی، مہذب اور ولولہ انگیز ماحول فراہم کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ زینب اور اس کی عمر کی بچیوں اور بچوں کے روح فرسا واقعات اگر آج ہمیں سوچنے پہ مجبور کر رہے ہیں تو پہلے یہ بہیمانہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ یہ واقعات ایک گہری نفسیاتی، سماجی اور جنسی عارضوں کا شاخسانہ ہیں۔ اس بہت ہی قبیح بے راہ روی کے نفسی تجزیہ کے ساتھ ساتھ، اس کی اصلاح، روک تھام اور سدباب کے لیے تعلیمی، تہذیبی، اخلاقی، سماجی اور قانونی انتظامات و اقدامات کرنے ہوں گے۔ فقط ایک دو واقعات میں ملوث نفسیاتی مجرموں (Psychopaths) کو قرارِ واقعی سزا تو ملنی ہی چاہیے، لیکن جو لاکھوں جنسی ہوس کا شکار بچے بچیاں ہیں اور جو بول نہیں پاتے اور جو........

© Daily Jang