We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

قاتل۔ حاکم وقت

4 8 4
13.01.2018

قصور میں ہونے والے دلخراش واقعہ نے قوم کو بری طرح سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ننھی زینب پر گزرنے والی قیامت نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے ۔پچھلے کئی روز سے میڈیا لگاتار اس اندوہناک واقعہ کی کوریج کر رہا ہے،" جسٹس فار زینب " کے نام سے سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی جا رہی ہے ۔معاشرے کے ہر حصہ سے صرف یہی صدا بلند کی جارہی ہے کہ اس گھنائونے فعل کو سرانجام دینے والے شیطان کو اس کے کئے کی سزا دی جائے۔ غم و غصے کی شدت اس قدر زیادہ ہے کہ مجرم کی سر عام پھانسی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ یقیناََ اس کیس کو ملنے والی کوریج سے معصوم زینب کے لواحقین کو کم از کم یہ حوصلہ تو ضرور ہوا ہے کہ ا ن کی معصوم بیٹی کا قاتل شاید اپنے انجام کو پہنچ ہی جائے لیکن دوسری طرف جو بات ایک بار پھر سے کھل کر سامنے آئی ہے وہ پاکستان کے ریاستی نظام کا بوسیدہ پن ہے۔ زینب کا اغوا قصور میں ہونے والا اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے، اخباری رپورٹوں کے مطابق دو کلومیٹر کے دائرہ میں صرف چند ماہ کے عرصے میں گیارہ سے زائد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا نے کے بعد قتل کر دیاگیا لیکن کسی ایک بھی کیس میں مجرم گرفتار نہیں ہو ا۔ ایسے حالات میں مقامی لوگوں کا غم و غصہ با لکل بجا ہے۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ گزشتہ واقعات کے پس منظر میں زینب کے لواحقین کی جانب سے اس کی گمشدگی کے بارے میں اطلاع ملنے پر پولیس تفتیش میں سستی نہ دکھاتی۔ لیکن پولیس نے ان کی کوئی خاطر خواہ مدد نہیں کی اور تھانہ کلچر تبدیل کرنے کا خادم اعلیٰ کا نعرہ محض نعرہ ہی ثابت ہوا۔ چار روز تک پولیس روایتی انداز سے........

© Daily Jang