We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

قصور کا سانحہ اور نئے سیاسی زائچے

3 0 11
13.01.2018

قصور سے تعلق رکھنے والی سات سالہ بچی، زینب کا انتہائی وحشیانہ اور بہیمانہ قتل اس وقت پورے قومی افق، بالخصوص پنجاب پر چھایا ہوا ہے۔ اس قتل نے ہر حساس پاکستانی کا دل خون کر دیا ہے۔ اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اسکے ساتھ ہی مشتعل مظاہرین کی توڑ پھوڑ، پر تشدد مظاہروں اور پولیس کی فائرنگ سے تین افراد کا جاں بحق ہونا، اس سانحے کی شدت کو مزید بڑھا گیا۔ بلا شبہ اس طرح کے المیے جذبات کو بھڑکا دیتے ہیں اور رد عمل کو صبر و تحمل کے کناروں کے اندر رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن معاشرے کے سنجیدہ طبقوں، با شعور شہریوں اور بالخصوص میڈیا کو ایسا متوازن رویہ اپنانا چاہیے کہ کسی سانحے کی کوکھ سے مزید سانحے نہ جنم لینے لگیں۔ بچی سے زیادتی اور اسکے قتل کے ساتھ ساتھ پولیس کا رویہ، والدین کی ذمہ داریاں، معاشرے کا کردار، عدل و قانون کے تقاضے، مظاہرین کا رد عمل اوربہت سے دیگر سوالات بھی زیر بحث آرہے ہیں۔ دنیا بھر میںاس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔مغرب کے ترقی یافتہ ممالک میں تو ایسے انسانیت سوز واقعات کی شرح بہت ذیادہ ہے۔ لیکن وہاں اس طرح امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے نہ ہڑتالیں کی جاتی ہیں۔ نہ جلائو گھیرائو ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی سانحہ ، کئی سانحوں کا سبب بن جاتا ہے۔ البتہ قانون ضرور حرکت میں آتا ہے۔پولیس پوری مستعدی سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی ہے اور معاشرہ ہو یا میڈیا، اپنی پوری طاقت کے ساتھ قانون کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہاں انصاف کا عمل بھی تیز رفتار ہوتا ہے اور مجرم نہایت مختصر عرصے میں اپنے جرم کی سزا پا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں بھی اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ قانون پوری طاقت سے حرکت میں آئے اور مجرم........

© Daily Jang