We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ایک جلسے کی درد ناک کہانی

8 1 12
19.01.2018

پاکستان کی تمام اپوزیشن جماعتیں علامہ طاہر القادری کی قیادت میں لاہور کے مال روڈ پر جمع ہوئیں، مقصد جلسہ کرنا تھا مگر صرف ’’جلسی‘‘ ہوسکی۔ اسٹیج پر اپوزیشن جماعتوں کے تین سو ’’قائدین‘‘ تشریف فرما تھے، اگر یہ اپنے پچاس پچاس پیروکار بھی ساتھ لے آتے تو سامعین کی تعداد پندرہ ہزار ہوسکتی تھی، اگر اور کچھ نہیں تو اسٹیج پر بیٹھے رہنے کی بجائے سامعین کے ساتھ خالی کرسیوں پر ہی آکر بیٹھ جاتے توبھی جلسے کی رونق میں ان کا حصہ پڑ جاتا۔ تاہم جلسہ ہوا اور بہت گرما گرم تقریریں ہوئیں، نوازشریف اور شہباز شریف کے کپڑے نوچنے اور ان کے گھروں پر حملوں جیسی باتیں بھی ہوئیں، یہاں ان رہنمائوں کے خلاف ’’عمرانی زبان‘‘ بھی استعمال کی گئی۔ پارلیمنٹ پر اتنی بار لعنت بھیجی گئی کہ لگتا تھا کہ یہ جلسہ صرف اس پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے ہی کے لئے منعقد کیا گیا تھا، جس نے انہیں حکومت نہیں بنانے دی۔ شیخ رشید نے تو اس پارلیمنٹ سے استعفیٰ بھی دے دیا جس کی بے پناہ پذیرائی عمران خان اور طاہر القادری نے کی۔ عمران خان نے تو کہا کہ اپنی پارٹی سے مشاورت کے بعد........

© Daily Jang