We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ٹی وی چینلز سے بجرنگی بھائی جان تک

8 1 4
25.12.2017

میں جب اخبارات پڑھتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ ایسی صحافتی اخلاقیات کی باقیات موجود ہیں، میں ڈمی اخبارات کی بات نہیں کرتا، ان میں سے ایک تو ایسا اخبار بھی میں نے گزشتہ روز دیکھا کہ لگتا تھا شرم و حیا نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی، تاہم قومی سطح کے اخبارات اپنا بھرم کافی حد تک قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ کبھی کبھار بہک بھی جاتے ہیں یا بہکائے جاتے ہیں لیکن انہیں عوامی سند کبھی نہیں ملتی جبکہ ٹی وی چینلز میں سے دو تین ایسے بھی ہیں جو شام سات بجے سے رات کے گیارہ بجے تک مائوں بہنوں کے سروں سے بھی ان کی چادریں اتارنے میں لگے رہتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ جو معتبر ٹی وی چینلز ہیں انہیں بھی اپنی خبروں کی پیشکش کو اتنا ڈرائونا نہیں بنانا چاہئے کہ دیکھنے والا دبک کر بیٹھ جائے کہ اللہ جانے آگے کیا ہونے والا ہے۔ اسی طرح قوم کی بربادی کا سارا ملبہ سیاستدانوں پر ڈالنا مناسب نہیں، اس بربادی میں ا رب پتی تاجر(جن میں سے کچھ ایک ماٹھی سی دکان پر دھوتی باندھ کر بیٹھے مچھلی یا قورمہ بیچتے نظر آتے ہیں) وہ بھی تباہی و........

© Daily Jang