We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

تمہارے نام ایک خط

6 1 6
14.12.2017

پیارے حبیب جالب!
یہاں پرہر طرح خیریت ہے اورخداوند کریم سے تمہاری خیریت نیک مطلوب ہے۔ دیگر احوال یہ ہے کہ جمہوریت کی بھینس نے مرا ہوا کٹا دیا ہے چنانچہ بھینس کے تھنوں میں دودھ اتارنے کے لئے کٹے میں بھس بھر کر اس کے ساتھ کھڑا کردیا گیا ہے مگر آج کل کی بھینس بھی بہت سیانی ہوگئی ہے۔ اسے اصلی اور نقلی کی پہچان ہے۔ چنانچہ اب وہ دودھ بہت کم دے رہی ہے۔ اس دودھ میں بھی بھینس کے ساتھ بندھی بکری مینگنیں ڈال دیتی ہے۔ تمہیں یہ بھینس بہت پیاری تھی۔ تم اس کو پالنے پوسنے میں لگے رہتے تھے مگر اب یہ بہت لاغر ہوگئی ہے چنانچہ گائوں کا قصائی معنی خیز نظروں سے اسے گھورنے لگا ہے۔ قصائی نے دو تین دفعہ اشاروں کنایوںمیں اسے فروخت کرنے کی بات کی ہے لیکن ہم نے سختی سے انکار کردیا۔ ہمارا کہنا تھا کہ کم دودھ کی وجہ سے اسے بوچڑوں کے حوالے نہیںکیاجاسکتا۔ دیکھیں آگے چل کر کیا کیا ہوتا ہے؟
ہمیں یاد ہے کہ تم لاہور کے فٹ پاتھوں پر پیدل چلا کرتے تھے۔ جب تھک جاتے تو ٹی ہائوس آ جاتے۔ وہاں دانشوروں کی جگتیں اور مینے سن کر ٹی ہائوس کے باہر ریلنگ کا سہارا لے کر کھڑے ہو جاتے اور پھر اپنے سیاسی دوستوں سے ملنے کافی ہائوس کی طرف چل پڑتے جہاں یار لوگ خوش وقتی کے لئے سیاسی گفتگو کر رہے ہوتے۔ تم اس بے عمل گفتگو سےاکتا کر ایک بار پھر سڑکیں ماپنا شروع کردیتے۔ تم اس وقت بھی تنہا تھے، تم جیسے لوگ آج بھی تنہا ہیں کہ نہ تمہاری موجودگی میں دلوں پہ بے حسی کی برف پگھلی تھی اور نہ یہ برف آج پگھلتی نظر آتی ہے۔ باقی سب خیریت ہے!
پیارے حبیب جالب! تمہاری ساری عمر عوام کے جمہوری حقوق کی جنگ لڑتے گزری ہے۔ تم جنرل ایوب کے خلاف سینہ سپر رہے، جنرل ضیاء سے........

© Daily Jang