We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

خواہشوں کی قید سے آزاد ہونا چاہئے

7 1 10
06.11.2017

کل اتوار تھا،چھٹی کا دن ،مغربی ملکوں میں جمعہ کی شام کو لانگ ویکنڈ شروع ہوجاتا ہے اور اتوار کی شام کو اس کا خاتمہ بالخیر !سرمایہ دار ملکوں کا صنعتکار بہت چالاک ہوتا ہے، وہ جمعہ کی شام کو آپ کو ہفتے بھر کی مزدوری آپ کے ہاتھ میں تھماتا ہے اور اتوار کی شام تک آپ سے سارے پیسے واپس لیتا ہے۔ اس نے آپ کو کریڈٹ کارڈ دیا ہوتا ہے اور نت نئی مصنوعات کی یلغار بذریعہ پبلسٹی آپ کے دل و دماغ پر کردی جاتی ہے ، چنانچہ سرمایہ دار نے جمعہ کی شام کو ہفتے بھر کی محنت کا جو معاوضہ آپ کو دیا ہوتا ہے وہ اتوار کی شام تک آپ سے واپس ہتھیا لیتا ہے۔میں آپ کو اس کی ایک مثال دیتا ہوں، ایک انویسٹر کوئی نیا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے اس کے ذہن میں جوتوں کا کارخانہ لگانے کا منصوبہ ہے مگر مارکیٹ میں جوتوں کی بھرمار ہے، چنانچہ وہ سوچتا ہے کہ اس میں کوئی اختراع ہونا چاہئے، وہ جوتے کے تلوے میں ایک گھنٹی لگادیتا ہے اور اسےBell showکا نام دیتا ہے۔ اس کے بعد آپ جب کبھی ریڈیو آن کرتے ہیں وہاں بیل شوز،بیل شوز کی صدائیں پبلسٹی کی صورت میں سنائی دے رہی ہوتی ہیں۔ آپ اخبار اٹھاتے ہیں وہاں پورے صفحے پر ایک........

© Daily Jang