We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

افغان پالیسی کی تبدیلی ناگزیر

4 10 8
13.01.2018

چند روز پہلے صدر ٹرمپ نے اپنے سیکورٹی کے مشیروں سے پوچھا کہ پاکستان کے معاملے میں کیا بہتری ہے؟ اس سوال کا پس منظر یہ تھا کہ امریکہ کو پاکستان سے شکایت رہی ہے کہ وہ افغانستان میں کارروائیاں کرنے والے جنگجوئوں کو مدد فراہم کرتا ہے جسکی وجہ سے امریکہ کو افغانستان میں تاریخ کی طویل ترین اور مہنگی ترین جنگ لڑنی پڑی ہے اور ابھی تک امریکہ افغان جنگ میں پھنسا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم اور پھر بعد میں تقریروں اور بیانات کے برعکس صدر ٹرمپ نے حال ہی میں افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے کی بجائے مزید بڑھا دی ہیں۔ افغان پالیسی کی تشکیل کے دوران جنگجو مشیروں کی رائے صدر ٹرمپ کی ذاتی رائے پر حاوی رہی اور امریکہ نے جو نئی افغان پالیسی تشکیل دی ہے اسکے مطابق امریکہ یہ بات تسلیم کر چکا ہے کہ وہ مکمل طور پر طالبان کو شکست نہیں دے سکتا اس لئے اب اسکا مطمح نظر صرف ان کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے تاکہ وہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان کوئی قابلِ عمل معاہدہ کرا کے افغانستان میں ایک محدود تعداد میں فوج رکھ کر جنگ کے خاتمے کا اعلان کر سکے۔ ظاہر ہے ایسا فوری طور پر ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ اس وقت زمینی حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کا ایک بہت بڑا حصہ طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ طالبان اسی صورت مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں اگر امریکہ انکو ایک خاص حد تک کمزور کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ موجودہ حالات میں یہ بھی ممکن نہیں ہے۔ سو امریکہ کا ارادہ ہے کہ جب تک حالات معاہدے کیلئے سازگار نہیں ہوتے اس وقت تک امریکہ افغانستان میں ایک ایسا اسٹیٹس کو برقرار رکھے گا جو امریکہ کی حمایت سے قائم افغان حکومت کیلئے مددگار رہے۔ اور اس مقصد کے حصول کیلئے امریکہ نے افغانستان میں اپنے فوجیوں کی........

© Daily Jang