We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

اب خوش ہو

9 1 27
14.01.2018

نواز شریف کے اس بیان نےکہ مجیب الرحمٰن کو کس نے محب وطن سے غدار بنایا، ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس بحث نے مجھے بھی بہت کچھ سوچنےپر مجبور کیا ہے۔ اس سوچ کا سرا 1906 میں مسلم لیگ کے بانی نواب سر سلیم اللہ سے جڑتا ہے۔
نواب سر سلیم اللہ کے بوڑھی گنگا کے کنارے واقع احسن محل کی سیڑھیوں پر بیٹھے میں عجیب خیالات میں کھو گیا، یہ وہی جگہ تھی جہاں 1906میں مسلم لیگ کا قیام وجود میں آیا۔ نواب احسن اللہ اس سے پہلے اسی جگہ پر کانگریس کے خلاف میٹنگز کی صدارت کیا کرتے تھے۔ وہ مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ جماعت کے قیام کے شدید حامی تھے اور اسی وجہ سے جب بعد میں نواب سلیم اللہ کو 1905 میں بنگال کے انتظامی طور پر دو الگ حصوں میں بٹنے کی وجہ سے مسلمانوں کو سکون کے سانس کے ساتھ ساتھ اکٹھا ہونے کا موقع ملا تو انہوں نے مسلم لیگ بنانے میں دیر نہیں کی۔یہ پاکستان کے قیام کی طرف پہلی پیش رفت تھی۔ ایک زمانے تک بنگال کے مسلمان جو مغربی پاکستان کے مقابلے میں تعداد میں زیادہ تھے، مسلم یونٹی کا خواب دیکھتے رہے۔ خود شیخ مجیب الرحمٰن بھی جو اپنی کتاب "Unfinished Memories" میں لکھتے ہیں کہ 1941میں وہ مکمل طور پر سیاست میں داخل ہو چکے تھے۔ انہوں نے گوپال گنج میں میٹنگز میں شرکت کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان کے ذہن میں صرف اور صرف یہ سوچ تھی کہ مسلم لیگ کیلئے کام کیا جائے، اس لئے کہ انہیں یقین تھا کہ صرف مسلم لیگ کے علاوہ مسلمانوں کا کوئی اور مستقبل نہیں ہے۔ اسی یقین کے تحت انہوں نے گوپال گنج کے قریبی علاقوں جیسے مداری پور وغیرہ کا دورہ شروع کیا اور وہاں مسلم اسٹوڈنٹس لیگ بنانے میں مددگار ثابت........

© Daily Jang