We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

بلوچستان میں سیاسی عدم استحکام

10 1 3
14.01.2018

بلوچستان میں اچانک جو سیاسی بحران پیدا ہوا ہے ، وہ ایک سیاسی کھیل میں کسی کی کامیابی کا شاخسانہ تو ہو سکتا ہے اور اسے جمہوری عمل کا حصہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے لیکن میرے خیال میں اس کے جمہوری اور سیاسی عمل پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ سیاسی اور جمہوری عمل پر بلوچستان کے عوام کا جو اعتماد بحال ہو رہا ہے ، وہ متزلزل ہو گا ۔ میرے ان خدشات کا سبب بلوچستان کے مخصوص حالات ہیں ۔ سردار ثناء اللہ زہری کی طرف سے وزارت اعلیٰ کا منصب چھوڑنے کے فیصلے اور نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب سے بھی یہ بحران ختم ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا کیونکہ جن قوتوں نے یہ بحران پیدا کیا ہے ، ان کے مقاصد بلوچستان میں سیاسی استحکام سے حاصل نہیں ہوں گے ۔
جس وقت یہ سطور تحریر کی جا رہی تھیں ، اس وقت بلوچستان میں نئے وزیر اعلیٰ کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جا رہے تھے ۔ ان سطور کی اشاعت تک بلوچستان کا وزیر اعلیٰ منتخب ہو چکا ہو گا لیکن خدشات اپنی جگہ موجود رہیں گے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن حالات میں سابق وزیر اعلیٰ سردار ثناء اللہ خان زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی ، وہ حالات بہت ہی غیر معمولی اور حیرت انگیز ہیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سردار ثناء اللہ خان زہری بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی وجہ سے مستعفی نہیں ہوئے بلکہ اپنی ہی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی بغاوت کی وجہ سے انہیں وزارت اعلیٰ کا منصب چھوڑنا پڑا ۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی........

© Daily Jang