We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

پاکستان ودھوا آشرم نہیں ہے

13 6 58
21.08.2018

نومنتخب وزیر اعظم کا قوم سے پہلا خطاب سن لیا۔ یادش بخیر ،بھٹو صاحب نے 20 دسمبر 1971 کی رات پاکستانیوں سے پہلی بار بحیثیت سربراہ مملکت خطاب کیا تھا۔ ہماری تاریخ میں اس سے زیادہ گمبھیر مرحلے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ آدھا پاکستان علیحدہ ہو چکا تھا۔ باقی ماندہ پاکستان سرزمیں بے آئین تھا۔ 93000 جنگی قیدی اور موجودہ پاکستان کا چھ ہزار مربع میل علاقہ دشمن کے پنجہ گرفت میں تھے۔ اس کے باوجود بھٹو صاحب نے شکست خوردہ قوم کی آنکھوں میں خواب کی جوت جلا دی۔ بھٹو صاحب کا سیاسی پس منظر ہرگز بے داغ نہیں تھا لیکن ان کی ذہنی جودت، سیاسی قامت اور قائدانہ صلاحیت سے ایسا اعتماد ہویدا تھا کہ تیرہ برس تک مسلسل آمریت کی مار کھانے والی قوم نے مستقبل کے بارے میں ایک ولولہ محسوس کیا۔ یہ الگ بات کہ بھٹو صاحب نے ساڑھے پانچ برس تک اس اعتماد کا اذیت ناک امتحان لیا۔ 19 اگست کی شام عمران خان کے خطاب سے مرحوم جنرل ضیاالحق کی وہ تقریر یاد آئی جو انہوں نے 29 مئی 1988 کو محمد خان جونیجو کی حکومت برطرف کرنے کے بعد کی تھی۔ تب منتشر خیالی اور بے یقینی کی یہی کیفیت تھی… جلد ہی ’بوئے گل و رنگ گل ہوتے ہیں ہوا دونوں‘کا مرحلہ آن پہنچا۔

آئین کے مطابق منتخب حکومت تو بدیہی طور پر تسلسل، استحکام اور ارتباط جیسے اشاروں سے عبارت ہوتی ہے۔ یہاں کیمیا گری، شخصی معجزے، مفروضہ اخلاص نیت اور مشتعل جنون کا ایسا وفور ہے کہ پوری تقریر میں آئین کا ذکر ہی نہیں کیا۔ جمہویت کا لفظ ہی سننے میں نہیں آیا۔ وفاق کی اکائیوں سے مخاطب ہی نہیں ہوئے، مذہبی اقلیتوں سے تحفظ کا وعدہ تک نہیں کیا، مذہبی انتہا پسندی کے بارے میں کوئی سمت نہیں دی۔ عورتوں کا ذکر کیا تو........

© Daily Jang