We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

امید کے دئیے

5 26 57
21.08.2018

انصاف کے نام پہ22 سال قبل نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے والے عمران خان اپنی مدمقابل جماعت ہی سے تعلق رکھنے والے صدر مملکت سے حلف اٹھا کر پاکستان کے22 ویں وزیر اعظم منتخب ہو گئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم منتخب ہونے کیلئے انہوں نے176 ووٹ حاصل کئے اس طرح قائد ایوان کا منصب اتحادی جماعتوں کے ووٹوں سےہی ممکن ہو سکا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی ٹیم میں ان جماعتوں کے7 کھلاڑیوں کو شامل کر کے فوری احسان کا بدلہ بھی چکا دیا ہے۔ یہ تو ابتدا ہے اس لو دو کی کیونکہ صرف چار ووٹوں سے قائم کرسی کو بچانے کے لئے انہیں کتنی بار اپنے اصولوں پر سمجھوتا کرنا اور کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑیں گے اس کا بخوبی ادراک بھی خان صاحب کو جلد ہی ہو جائے گا۔ قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد پہلے ہی دن قومی اسمبلی میں عمران خان کو اپوزیشن بالخصوص پاکستان مسلم لیگ ن کے ارکان کی طرف سے جس شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ پارلیمانی تاریخ کا ایک سیاہ باب تو ضرور ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جناب وزیر اعظم کو یہ احساس دلانے کے لئے بھی کافی ہو گا کہ احتجاج بھی خاص حد تک ہی قابل قبول ہوتا ہے اور اپنےاس جمہوری حق کے لئے آزادی کا استعمال اس نہج تک ہر گز نہیں جانا چاہئے جہاں سے اگلے کی ناک شروع ہوجائے۔ اس صورتحال میں تو انہیں پارلیمان میں اس پارٹی کے چئیرمین بلاول

بھٹو جیسے نووارد کا جمہوریت پر لیکچراور ناصحانہ کردار بھی بہت بھلا دکھائی دیا ہے جس نے ایوان میں بیٹھے ہوئے بھی ملک کے وزیر اعظم کے........

© Daily Jang