We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

آئو ہارون بلور کا بدلہ لیں!

10 250 347
12.07.2018

کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ باپ کے بعد بیٹے کی شہادت پر بھی کالم لکھوں گا۔ چند دن پہلے میں پشاور کی سڑکوں اور گلیوں میں صوبائی اسمبلی کے لئے امیدوار ہارون بلور کے پوسٹر اور بینر دیکھ کر اُن کے والد بشیر بلور کو یاد کر رہا تھا۔ بشیر بلور پانچ دفعہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور جس زمانے میں آئے روز بم دھماکے ہوتے تھے بشیر بلور اور میاں افتخار حسین بم دھماکے کرنے والوں کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئے۔ بشیر بلور پر تین دفعہ خودکش حملے ہوئے۔ چوتھے حملے میں شہید ہو گئے۔ میں ہارون بلور اور حاجی غلام احمد بلور کے پوسٹروں کو دیکھ کر بشیر بلور کے ساتھ پشاور کی سڑکوں پر کئے گئے اُس امن مارچ کو یاد کر رہا تھا جس میں بمشکل سو افراد بھی اکٹھے نہ ہوئے کیونکہ بم دھماکوں کے خوف نے پورے پشاور کو نہیں پورے خیبر پختونخوا کو جکڑ رکھا تھا۔ میں یاد کر رہا تھا کہ بم دھماکوں کا خوف ختم کرنے کے لئے میں نے پشاور میں امن مارچ کا فیصلہ کیا کیونکہ یہاں جلسے جلوسوں کا رواج ہی ختم ہو رہا تھا۔ میری اس تجویز پر سب سے پہلے بشیر بلور نے ہاں کہی۔ جس دن جلوس نکالنا تھا میں مقررہ وقت پر پشاور پریس کلب کے باہر پہنچ گیا اور سب سے پہلے بشیر بلور وہاں پہنچے۔ پھر میاں افتخار حسین، اقبال ظفر جھگڑا، مفتی کفایت اللہ اور بہت سے صحافی بھائیوں نے مل

کر امن مارچ شروع کیا۔ یہ مارچ ختم ہوا تو بشیر بلور زبردستی مجھے اپنے گھر لے گئے جہاں ہارون بلور نے ہمارے لئے پُرتکلف ظہرانے کا بندوبست کر رکھا تھا۔ یہ دونوں باپ بیٹا بڑی محبت اور شوق سے ہمیں کھانا کھلاتے رہے اور بشیر بلور بار بار قہقہہ لگا کر کہتے یہ دہشت گرد ہماری مسکراہٹیں چھیننا چاہتے ہیں ہم مسکرانا بند نہیں کریں گے اور ہارون بلور مسکراتے ہوئے میری پلیٹ میں مزید تکے ڈال کر کہتا لیجئے پشاور کے........

© Daily Jang