We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

جولائی کا الٹرا ساؤنڈ اور اگست کا بلیک باکس

3 1 28
10.07.2018

25 مارچ 1969 کی شام تھی۔ اسلام آباد میں ٹیلی وژن اسٹیشن قائم ہوئے چار برس گزرے تھے۔ اس زمانے میں ٹیلی وژن کی نشریات شام ڈھلے شروع ہوتی تھیں اور رات کے پہلے پہر میں ختم ہو جاتی تھیں۔ نشریات ختم ہونے کے بعد ٹیلی وژن کے اہل کار حسب معمول بڑے دروازے کے پاس کھڑے گھروں کو روانہ ہونے کی تیاریاں کر رہے تھے کہ اچانک قیمتی گاڑیوں کا ایک چھوٹا سا قافلہ ٹیلی وژن اسٹیشن میں داخل ہوا۔ بڑے اسٹوڈیو کی روشنیاں جل اٹھیں۔ اس خلاف معمول سرگرمی پر ٹیلی وژن کا عملہ چونک اٹھا۔ معلوم ہوا کہ جنرل یحییٰ خان کے گھرانے کی خواتین، جن میں نئے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی بہنیں نمایاں تھیں، خوشی منانے کے لئے تشریف لائی ہیں۔ اس روز فیلڈ مارشل ایوب خان نے اقتدار جنرل یحییٰ خان کے سپرد کیا تھا۔ اسلام آباد کے اسٹوڈیو میں ڈھولک پر گیت گایا جا رہا تھا، ویر میرا گھوڑی چڑھیا… ٹھیک دو برس اور نو ماہ بعد۔ پنجابی ہی کے ایک معروف محاورے کے مطابق، ’گھوڑی ختم ہو گئی‘ اور بہنوں کا ویر گھوڑی سے نیچے اترا تو ملک دو ٹکڑے ہو چکا تھا۔
مغربی پاکستان کے لوگوں نے سات دسمبر 1970 کو ایک رہنما کا انتخاب کیا تھا۔ اس شخص میں وہ تمام خامیاں تھیں جو فانی انسانوں میں ہوتی ہیں۔ کچھ خوبیاں بھی ضرور ہوں گی۔ بوجوہ خوبیوں کے ذکر سے گریز مناسب ہے۔ انیس ٹھیس نہ لگ جائے

آبگینوں کو… 20 دسمبر 1971 سے 5 جولائی 1977 تک ساڑھے پانچ برس یہ شخص ملک کے سیاہ و سفید کا مالک رہا۔ 4 اپریل 1979 کو یہ شخص سربلند ہو گیا۔ چار دہائیاں گزر چکیں۔ ہمارا شہسوار گھوڑے سے نیچے نہیں اترا۔ خلق خدا کی تائید سے روشن ہونے والے کاغذ کے ووٹوں سے جو مقام حاصل کیا جاتا ہے، اسے........

© Daily Jang