We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ایک یقین دہا نی۔۔۔۔۔۔!

6 1 4
14.06.2018

بحیثیت قوم ہمارے بارے میں مشہورہے کہ ہمیں اس وقت خیال یا ہوش آتاہے جب پانی سر تک پہنچ چکا ہو تاہے۔پھر ہم ہاتھ پائوں مارنا شروع کردیتے ہیں۔ ایک مولانا صاحب کی تقریر کی ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں وہ فرما رہے تھے کہ ایک سیاسی لیڈر صاحب کاکہنا ہے کہ کالا باغ ڈیم میری لاش پر ہی بنایاجاسکتاہے۔ جس کے جواب میں مولانا صاحب فرما رہے تھے کہ اس ملک کو حاصل کرنےکےلیے بھی ہمیں اپنی بہت ساری جانیں قربان کرنا پڑی ہیں، اپنی عزتیں لٹانا پڑی۔اگر کالا باغ ڈیم بھی ہمیں اپنی لاشوںپر بنانا پڑے تو ڈیم ضرور بناناچاہیے۔ مولانا صاحب فرماتے ہیں کہ اگر اس کےلیے میری جان کی ضرورت ہے اور ڈیم میری لاش پر بنانا پڑے تو بھی میں حاضر ہوں کیونکہ ہم نے پاکستان کو اپنی آنے والی نسلوں کےلیے ہر صورت بچاناہے۔ یہ تو بڑا کام ہے کہ جس کےلیےلاشوں کی ضرورت کی بات ہورہی ہے اللہ نہ کرے کہ ہمارے ملک میں ایسی نوبت آئے ،بلکہ ملک کی ضرورت اور بقا کو سمجھتے ہوئے ہمیں ڈیم ضرور بناناچاہیے اس کے لیے ہمیں کچھ بھی کرنا پڑے ۔لیکن اس........

© Daily Jang