We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

نگراں دور حکومت اور شفاف انتخابات

5 0 1
14.06.2018

دنیا کے کسی جمہوری ملک میں نگران حکومت کا تصور نہیں ہے۔ اسمبلی تحلیل کرکے تازہ مینڈیٹ کی طرف جانا منتخب وزیراعظم کا جمہوری و آئینی حق ہوتا ہے مگر پاکستان میں منتخب وزیراعظم اس حق سے بھی محروم رہتا ہے۔ اسمبلی تحلیل کرکے انتخابات کے اعلان میں نگران حکومت رکاوٹ ہوتی ہے جن سے اختلاف کی وجہ سے الیکشن کے لئے رجوع کرنا ہوتا ہے، ان کی مشاورت کے بغیر نگران وزیراعظم کا تقرر ممکن نہیں ہوتا۔ وزیراعظم کو اپنے اس اختیار کو استعمال کرنے کے لئے بھی اپوزیشن سے مدد لینا پڑتی ہے۔ اپوزیشن لیڈر راضی نہ ہو تو معاملہ کھٹائی میں پڑ جاتا ہے اور منتخب وزیراعظم کو الیکشن کمیشن کے فیصلے پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کی واحد جمہوریت ہے جہاں پر چھ ماہ کے لئے حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ انتخابات سے تین ماہ قبل حکومت جانے کی تیاریوں میں لگ جاتی ہے اور ہر شے مفلوج ہوجاتی ہے اور اسی طرح نگران حکومت بننے کے بعد تین ماہ تک ملک میں کوئی اہم فیصلہ نہیں لیا جاتا۔ نگران حکومت منتخب حکومت کے انتظار میں بیٹھی رہتی ہے۔ دنیا بھر کے مہذب معاشروں میں منتخب حکومت ہی انتخابات کراتی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کو انتخابات سے متعلق ہر معاملہ سونپ دیا جاتا ہے اور الیکشن کمیشن مکمل بااختیار ہوتا ہے۔ میرے خیال سے آج پاکستان میں جتنا الیکشن کمیشن

بااختیار اور خودمختار ہے، شاید ہمسایہ ملک بھارت میں بھی نہیں ہوگا۔ اس سے بڑی خودمختاری اور کیا ہوسکتی ہے کہ نگران وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری اور آئی جی کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی منظوری سے کی جارہی ہے۔ مگر........

© Daily Jang