We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

بابا ڈیم ...

13 50 184
25.01.2019

اس ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ایسے سیاستدانوں کی بہتات ہے جنہیں اپنے تجربے کی بنیاد پر ایمان کی حد تک یقین ہے کہ تمام لوگوں کو ہمیشہ کیلئے بیوقوف بنایا جا سکتا ہے۔ (امریکی مصنف اور کالم نگار، فرینکلن پی ایڈمز)

وطنِ عزیز میں بے وقوف بنانے کے مشغلے پر محض سیاستدانوں کی اجارہ داری نہیں بلکہ جج ہوں یا جرنیل حسب توفیق سب مسیحا اور نجات دہندہ بن کر قوم سے شغل لگانے اور دل لگی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ البرٹ ہوبرڈ نے زمینی حقائق کا اِدراک کرتے ہوئے کہا تھا، ہر شخص روزانہ کم از کم پانچ منٹ کیلئے بے وقوف بنتا ہے مگر عقلمندی یہ ہے کہ بیوقوفی کا دورانیہ بڑھنے نہ پائے۔ ہمارا قومی المیہ مگر یہ ہے کہ بیوقوفی کا دورانیہ بتدریج بڑھتا ہی چلا گیا کیونکہ بقول آئن اسٹائن، عقل و دانش محدود ہو سکتی ہے مگر بے وقوفی اور حماقت کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر ہمارے ہاں حکومتوں نے کئی بار عوام کے سامنے جھولی پھیلانے کی شعبدہ بازی کی اور لوگوں نے ہر بار ایسی مہمات میں نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ کتے کے منہ میں ہاتھی دانت اُگنے کی امید بھی لگا لی۔ 1965ء کی جنگ میں بھارت نے لاہور سیالکوٹ سیکٹر سے بین الاقوامی سرحد عبور کی تو فیلڈ مارشل ایوب خان نے ٹینکوں کی خریداری کیلئے عوام سے تعاون کی اپیل کی۔ لوگوں نے ’’ٹیڈی پیسہ ٹینک مہم‘‘ میں قومی جوش و جذبے سے حصہ لیا۔ 17دن بعد اقوام متحدہ کے ذریعے جنگ بندی کا راستہ تلاش کیا گیا اور ٹیڈی پیسہ دینے والوں کا جذبہ معاہدۂ تاشقند کے ذریعے سرد کر دیا گیا۔

یادش بخیر! قائد عوام........

© Daily Jang