We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

سیاسی، فوجی و عدالتی قیادت کے سربراہی اجلاس کی تجویز

12 0 2
24.01.2019

میں بار بار دو ننھی بہنوں اور ایک بھائی کی تصویریں دیکھتا ہوں۔ذہن کے پردے پر یہ زخم زخم معصومیت ثبت ہوگئی ہے۔یہ تین زندہ مجسمے ہیں۔ جو ہمارے حال اور ماضی کی سفاکیوں کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں منجمد بے بسی ان کے چہروں پر لکھی بے کسی ہمارا مستقبل بیان کررہی ہے۔

انسان اللہ تعالیٰ کا نائب ہے جو زمین پر درد دل بانٹنے کے لئےبھیجا گیا ہے۔ مہذّب دنیا میں انسان پر تحقیق ہر قانون سازی کا محور و مرکز ہوتا ہے۔ زندگی اللہ تعالیٰ کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔ اس پر ایک خراش ایک معمولی زخم ڈالنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچا جاتا ہے۔ دانش مند انسانوں، پیغمبروں، مختلف مذاہب نے انسانی جان کی حفاظت کے لئےحدود و قیود مقرر کر رکھی ہیں۔ مملکت بھی ان جیتے جاگتے انسانوں سے معاہدہ کرتی ہے۔ ان کی جان مال کے تحفظ کے لئے انسانوں میں سے ہی محافظ مقرر کئے جاتے ہیں۔ ان کی وردیاں‘ امان و حفاظت کی علامت ہوتی ہیں۔ یہ وردیاں صدیوں کی سوچوں اور مباحثوں کے بعد وجود میں لائی گئیں۔ وردی پہننے والا ہر انسان امانت کے بوجھ تلے دبا ہوتا ہے لیکن ساہیوال جیسے واقعات کے بعد پاکستان میں یہ وردیاں دہشت، خوف اور عدم تحفظ کی علامت بن جاتی ہیں۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ ٹیم کچھ بھی ہو۔ جانے والے تو واپس نہیں آئیں گے۔ یہ تین بہن بھائی تو بے سہارا ہی رہیں گے۔ ان کی یتیمی تو ختم نہیں ہوگی۔ یہ سوچ سوچ کر سانسیں پھول جاتی ہیں کہ یہ تین پاکستانی‘ ہمارے مستقبل کے معمار ہر سانس ایک دہشت، سفاکی اور لاچارگی کے ساتھ لیں گے۔

آج جس بے امانی اور عدم تحفظ کے سمندر میں ہم ہاتھ پائوں مار رہے ہیں یہ ہماری 72سال کی غیر ذمہ داریوں اور مستقبل کے لئے لاپروائیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ہمارے سیاسی اور فوجی دونوں حکمرانوں کی خراب حکمرانی کا کڑوا پھل ہے۔اب مقابلہ جمہوریت اور آمریت کا نہیں ہے۔ اچھی اور خراب حکمرانی کا ہے۔ ایسے میں نئے چیف جسٹس کی جانب سے ’میثاق حکمرانی‘ کی تجویز، ایک نوید، ایک بشارت اور ایک تیر بہدف نسخہ ہے۔ وہ پاکستانی جو ہر لمحہ وطن عزیز کے درد سے سرشار رہتے ہیں۔ جن کی نظر ماضی کے........

© Daily Jang