We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

’’نوری نت‘‘ کے بعد ’’مولا جٹ‘‘ کی باری

13 46 40
03.01.2019

جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ نقب زَنی کرنے والوں کو ہر دور میں ایسے سہولت کار میسر آجاتے ہیں جو گھر کے بھیدی بن کر لنکا ڈھاتے اور ’’لاڈلے‘‘ کہلاتے ہیں۔ ماضی بعید کے گڑے مُردے کیا اکھاڑنا، ماضی قریب کی بات ہے جب نواز شریف کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا تھا تو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اُنہی کے معاون و مددگار بن گئے جنہیں ’’اینٹ سے اینٹ بجانے‘‘ کی دھمکیاں دیا کرتے تھے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جاتی امرا میں پاکستانی ہم منصب کے گھر ہونے والی شادی کی تقریب میں شرکت کی تو بلاول نے آزاد کشمیر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کو ’’مودی کا یار‘‘ قرار دیدیا۔ آصف زرداری میمو گیٹ جیسے اسکینڈل بھگت چکے تھے اور محلاتی سازشوں سے بخوبی واقف تھے مگر جب پاناما اسکینڈل کے بعد نواز شریف کو دبائو میں لانے کی کوشش کی جا رہی تھی تو پیپلز پارٹی نے راہیں جدا کر لیں۔ نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے پر خوشیاں منائی گئیں۔ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کا مینڈیٹ چُرانے اور حکومت گرانے کا منصوبہ تیار ہوا تو آصف زرداری نے اپنا کندھا پیش کیا اور پھر لاہور میں ہونے والے جلسے کے دوران ببانگ دہل اس بات کا کریڈٹ بھی لیا۔ آصف زرداری مفاہمت کے بادشاہ کہلاتے ہیں مگر اُن دنوں انہوں نے جلسوں میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف جو لب و لہجہ اختیار کیا وہ شاید عمران خان جیسے مخالفین بھی نہ اپنا سکے۔ سینیٹ انتخابات کے موقع پر آصف زرداری ایک بار پھر ’’سہولت کار‘‘ کے طور پر سامنے آئے۔ اکثریتی جماعت ہونے کے ناتے چیئرمین سینیٹ لانا مسلم لیگ (ن) کا استحقاق تھا مگر جمہوریت دشمن قوتوں کو شکست دینے کیلئے پیپلز پارٹی کو یہ پیشکش........

© Daily Jang