We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

یہاں منطق اور تاریخ بھی بے بس ہو جاتے ہیں

11 3 10
03.01.2019

نیا سال مبارک ہو!

کیا ارادے ہیں آپ کے؟ ان 12مہینوں، 52ہفتوں اور 365دنوں کو کیسے گزارنا ہے۔ ویسے ہی جیسے پچھلا سال گزارا تھا؟ حکمرانوں کو کوستے، منفی تجزیے کرتے، ٹاک شوز دیکھتے۔ یہ سال 2018سے بھی زیادہ بحران، المیے اور چیلنج لے کر آرہا ہے۔ دنیا بہت کچھ سوچ رہی ہے۔ تصورات کو عملی شکل دینے کے لئے ٹیکنالوجی کی نئی نئی ایجادات آ رہی ہیں۔ ہمارے ہاں ابھی بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب کے کچھ علاقوں اور فاٹا میں 16ویں اور 17ویں صدی پورے شباب کے ساتھ موجود ہیں۔ انسانوں کی اکثریت اب بھی مٹھی بھر سرداروں، جاگیرداروں کے سامنے سر اٹھا کر نہیں بیٹھ سکتی۔ ان کے فیصلے اب بھی پولیس یا عدالتیں نہیں کرتیں، سردار، ملک اور خان ہی کرتے ہیں۔ پہلے بعض سیاسی جماعتیں، تنظیمیں، ٹریڈ یونین لیڈر یہ نعرے تو لگا دیا کرتے تھے‘ کھیت وڈیروں سے لے لو، ملیں لٹیروں سے لے لو، اب نہ ایسے نعرے لگتے ہیں نہ ہی کسی پارٹی کے انتخابی منشور میں ایسے عزائم شامل کئے جاتے ہیں۔

72سال کے بعد پاکستان کی آبادی جتنی ہونا چاہئے تھی عین اس کے مطابق بلکہ کچھ زیادہ ہی ہو گئی ہے۔ لیکن 72سال کے بعد ہماری معیشت جہاں ہونا چاہئے تھی، جہاں ہمارا تمدّن، رہن سہن ہونا چاہئے تھا، تعلیم کی شرح جہاں ہونا چاہئے وہاں نہیں ہے۔ 72سال کے بعد ہماری زندگی میں جتنی آسانیاں ہونا چاہئے تھیں، انسانی نقل و حرکت کے لئے جتنی آرام دہ، تیز رفتار ٹرانسپورٹ ہونا چاہئے تھی، وہ نہیں ہے۔

اس کا ذمہ دار کون ہے۔ ہم سب ہیں۔ ہمارے سوچنے، دیکھنے کے انداز حقیقت پسندانہ نہیں ہیں۔ یہ حکمراں سول یا فوجی، ہم میں سے ہی تھے اور ہیں۔ ہم ہی انہیں پیدا کرتے ہیں، پرورش کرتے ہیں پھر........

© Daily Jang