We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

اجتماعی آئینہ توڑنے سے کیا ہوگا؟

7 17 9
22.12.2018

حرف مطبوعہ برسہا برس سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، دنیا بھر میں اسے زندہ رکھنے کی تگ و تاز کی جا رہی ہے اور کیوں نہ کی جائے؟ کسی جانور کی نسل ناپید ہونے لگتی ہے تو محکمہ تحفظ جنگلی حیات حرکت میں آتا ہے، پودوں کی کوئی قسم ختم ہو رہی ہو تو تحفظ نباتات والوں کو فکر لاحق ہوجاتی ہے مگر ہمارے ہاں اخبارات کی سانس اکھڑنے پر تشویش تو کیا گویا جشن طرب برپا ہے،بغلیں بجائی جا رہی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا کیا اب تو الیکٹرونک میڈیا بھی بحران کی زد میں ہے۔ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے میڈیا کو فراخدلی سے اشتہارات دیکر ملک و قوم کا پیسہ ضائع کیا اور اب یہ سلسلہ ترک کر دیا گیا ہے تو بحران کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ چھوٹے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے بارے میں تو یہ بات جزوی طور پر درست ہو سکتی ہے لیکن بڑے میڈیا گروپوں کا انحصار محض حکومتی اشتہارات پر نہیں تھا۔ پرنٹ میڈیا توکم و بیش دو عشروں سے مشکلات کا شکار ہے مگر سوشل میڈیا کی مقبولیت نے الیکٹرونک میڈیا کو بھی دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے لیکن بڑے میڈیا گروپ نجی اور سرکاری اشتہارات سے حاصل ہونے والے ریونیو کے باعث کامیابی سے چل رہے تھے۔ حالیہ بحران کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ نہ صرف سرکاری اشتہارات کی دانستہ بندش سے میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے بلکہ ملک میں جاری اقتصادی کساد بازاری اور معاشی جمود کے باعث کاروباری سرگرمیاں مفقود ہو گئیں اور یوں نجی شعبے سے حاصل ہونے والے........

© Daily Jang