We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ریاست کا بلڈ پریشر

16 6 137
09.11.2018

فرید خان طوفان اب تو لڑھکتے لڑھکتے تحریک انصاف کا حصہ بن گئے ہیں لیکن آج بھی دل سے پختون قوم پرست ہیں ۔ دور طالب علمی میں اے این پی کی طلبہ تنظیم پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ اور اس کے رہنما رہے ۔ اس دور سے باچا خان ، خان عبدالولی خان اور بیگم نسیم ولی خان کی قربت سے سرفراز ہوئے اور شاید ہی اے این پی کے کسی اور رہنما یا کارکن نے ولی باغ کی اتنی خدمت کی ہو جتنی فرید طوفان نے کی ۔ یوں تو وہ پورے خاندان کے قریب تھے لیکن بیگم نسیم ولی خان صاحبہ کے تو دست راست بن گئے اور جب خان عبدالولی خان کی عملی سیاست سے کنارہ کشی کے بعد وہ پارٹی کی مکمل مختار بن گئیں تو فرید طوفان ان کے بعد دوسرے طاقتور شخص سمجھے جانے لگے ۔ نسیم ولی خان صاحبہ صوبائی صدر تھیں تو فرید طوفان جنرل سیکرٹری تھے۔ اے این پی سردار مہتاب حکومت کا حصہ بن گئی تو فرید طوفان وزیراعلیٰ کے بعد دوسرے طاقتور وزیر تھے ۔ فرید طوفان کی خوبی یہ تھی کہ وہ مالی طور پر کرپٹ نہیں تھے۔ اسی طرح وہ بے انتہا محنتی اور دیوانگی کی حد تک ولی خان اور بیگم نسیم ولی خان کے وفادار تھے ۔ وہ ہمہ وقت ان کی خاطر کسی سے بھی جھگڑا مول لینے اور کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے تھے لیکن ان کی خامی یہ تھی کہ نہایت بدزبان تھے اور سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ پارٹی کے کارکن حتیٰ کہ اسفندیار ولی خان اور بلور برادران بھی ان سے تنگ رہتے تھے ۔ ایک طرف بیگم نسیم ولی خان کی سرپرستی تھی ، دوسری طرف اقتدار اور وزارت کا نشہ تھا اور تیسری طرف شہرت تھی ، چنانچہ نوے کی دہائی کے آخری دنوں میں فرید طوفان کی وہ کیفیت تھی جو ان دنوں فواد حسین چوہدری کی ہے ۔ یہ شکایت عام تھی کہ جو بھی ان کے سامنے آتا ہے ، وہ ان پر دھاڑتےاور سناتے ہیں ۔ وہ بلڈ پریشر کے مریض........

© Daily Jang