We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

گمشدگیوں کے کچھ اعلانات

12 5 15
06.10.2018

خبر کی منڈی میں مندی کا رجحان ہے۔ وجہ یہ کہ حکومت، ریاستی ادارے اور اہل صحافت کچے دھاگے سے بندھے ایک ہی صفحے پہ رکھے ہیں اور اس صفحے پر اس تیزی سے دھول جم رہی ہے کہ سراج اورنگ آبادی یاد آتے ہیں۔ نہ خرد کی بخیہ گری رہی، نہ جنوں کی پردہ دری رہی، جو رہی سو بے خبری رہی… ادھر ادھر سے چھوٹے چھوٹے کنکر تالاب میں گرتے ہیں اور نشان چھوڑے بغیر گمنامی کے پانی میں اتر جاتے ہیں۔ مثلاً یہی دیکھیے کہ ڈاکٹر پروفیسر علامہ طاہر القادری کے دست راست خرم نواز گنڈا پور نے کس سہولت سے انکشاف کیا کہ 2014ء کے ابتدائی مہینوں میں عمران خان، پرویز الہٰی، چوہدری شجاعت اور طاہر القادری نے لندن میں ملاقات کر کے فیصلہ کیا تھا کہ حکومت کو گرانے کے لئے دھرنے دئیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ موجودہ وزیر اعظم گزشتہ پانچ برس سے ایسی کسی ملاقات یا لندن پلان سے دوٹوک انکار کرتے رہے۔ خرم نواز گنڈا پور کے ردعمل میں ایم کیو ایم کے سابق رہنما علی رضا عابدی نے تصدیق کی کہ طاہر القادری نے ایم کیو ایم کو بھی دھرنوں میں شریک ہونے کی دعوت دی تھی اور کہا تھا کہ وہ فیصلہ ساز قوتوں کی تائید سے یہ پیشکش کر رہے ہیں کہ نواز حکومت گرانے کے بعد سندھ کی صوبائی حکومت ایم کیو ایم کے سپرد کر دی جائے گی۔ حیران کن طور پر خرم گنڈا پور اور علی رضا عابدی کے انکشافات سیاسی مباحث میں اتنی جگہ بھی نہیں پا سکے جتنی چھیالیس برس قبل ستمبر 1972 کے مبینہ لندن پلان کو ملی تھی۔

ستمبر 1972 میں لندن ٹائمز نے خبر دی تھی کہ عبدالولی خان، محمود ہارون، ملک غلام جیلانی اور عطا اللہ مینگل وغیرہ نے لندن میں بیٹھ کر ایک پلان تشکیل دیا ہے جس کا مقصد پاکستان کو چار حصوں میں تقسیم کر کے........

© Daily Jang