We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

جواد نظیر اور خوفزدہ لوگ

8 1 17
02.10.2018

جواد نظیر مر گیا۔ کیا اس اطلاع میں خبر کا پہلو پایا جاتا ہے؟ جواد نظیر اعلیٰ پائے کا نیوز ایڈیٹر تھا۔ اچھا نیوز ایڈیٹر خبر پر ایک نظر ڈال کر سونگھ لیتا ہے کہ اس خبر کے پس منظر میں کون سی خبر ہے اور اس کے بعد کیا خبر آئے گی۔ جواد نظیر کی موت میں خبر نہیں۔ صحافت کے افق پر گردوغبار کی آلودگی نمودار ہوتی ہے تو پاکستان کی صحافت ٹھیک اسی طرح ایک بڑے صحافی کی قربانی دیا کرتی ہے جیسے قدیم مصر میں دریائے نیل خشک ہونے پر کنواری لڑکی کی بھینٹ دی جاتی تھی۔ اپریل 1959ء میں پاکستان ٹائمز اور امروز پر ریاست نے قبضہ کیا تو میاں افتخار الدین عدالتوں کے دروازے پر دستک دیتے رہے۔ انصاف کا دروازہ نہیں کھلا تو جون 1962ء میں میاں افتخار الدین کا دل بند ہو گیا۔ فیض صاحب نے اس پر لکھا تھا… نہ گنواؤ ناوک نیم کش، دل ریزہ ریزہ گنوا دیا۔ 1978ء میں ضیا آمریت نے روزنامہ مساوات بند کیا تو ابراہیم جلیس نڈھال ہو گئے۔ ابراہیم جلیس کا حساس دل 400 صحافیوں کے چولہے ٹھنڈے ہونے کا اضطراب برداشت نہیں کر سکا، دھڑکنا بھول گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے دوران کراچی میں ہر روز لاشیں گرتی تھیں۔ قاتل طاقتور تھے، اس ابتلا کی خبر دینے والے صحافی کمزور تھے۔ حکومت اخبارات پہ چڑھ دوڑی، رضیہ بھٹی نے اپنی جان کی قربانی دے دی۔ سلیم عاصمی، احفاظ الرحمن اور محمد حنیف جیسے صحافی جانتے ہیں کہ رضیہ بھٹی کو سرکار دربار سے دھمکی آمیز فون کون کرتا تھا۔ اور اب جواد نظیر ایسے موسموں میں رخصت ہوا ہے جب درختوں کے ہاتھ خالی ہیں۔ اقبال نے ایک مصرعے میں چراغ اور شرار کا بلیغ استعارہ استعمال کیا ہے۔ تسلیم کہ چراغ کو ستیزہ کاری سے گریز نہیں لیکن........

© Daily Jang