We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

اقبال کا ایک شعر اور منٹو کا افسانہ ’کھول دو‘

17 4 31
29.09.2018

لاہور سے گرینڈ ٹرنک روڈ پر راولپنڈی کی طرف روانہ ہوں تو کوئی 22 کلومیٹر کی مسافت پر مریدکے کا قصبہ واقع ہے۔ یہاں سے داہنی طرف ایک سڑک نکلتی ہے جو نارووال سے گزرتی ہوئی شکر گڑھ تک پہنچتی ہے۔ کوئی تیس برس گزرے، اس سڑک پر بار بار سفر کرنے کا موقع ملا کیونکہ پنجاب پبلک سروس کمیشن نے رزق کا دانہ اس خطے میں رکھ دیا تھا۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ جہاں دانہ ہو، وہاں دام بھی کہیں قریب ہی ہوتا ہے۔ درویش دو برس بعد دام کے دائمی امکان سے گھبرا گیا اور دانہ چھوڑ کر لاہور واپس چلا آیا۔ لاہور میں دوست، کبوتر، چڑیا اور پرانے پیڑ تھے۔ نانک شاہی اینٹ سے بنے کچھ مکان باقی تھے جہاں لکڑی سے بنے نازک مگر خستہ دریچوں سے رات گئے تک روشنیاں چھنتی تھیں۔ علم کے ٹھنڈے میٹھے پانیوں سے ذہنوں کو سیراب کرنے والے استاد تھے۔ اے وقتِ تو خوش کہ وقت ما خوش کردی۔ یہ فرد کے اپنے انتخاب کا معاملہ ہے۔ چاہے تو دل کے راہوار کو لامتناہی خواہش کی پگڈنڈیوں پر ڈال دے، اور اگر چاہے تو نعمت کی سرخوشی میں دن کاٹ لے۔ نیلے آسمان پر بادل کی ایک آوارہ ٹکڑی دیکھنا کتنی بڑی مسرت ہے یہ کوئی اس زندانی سے پوچھے، جس سے آسمان چھین لیا جاتا ہے۔ آسکر وائلڈ نے ریڈنگ جیل کا گیت لکھا تو پانچویں کینٹو میں قلم توڑ دیا…

I know not whether Laws be right,

Or whether Laws be wrong;

All that we know who lie in gaol

Is that the wall is strong;

And that each day is like a year,

A year whose days are long.

آسکر وائلڈ کو کیا خبر تھی کہ اس کے بعد آنے والوں میں محی الدین ابوالکلام نام........

© Daily Jang